’یہ کسی افواہ کا نہیں بلکہ ایک قتل کا مسئلہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چھ سال قبل جب کشمیر میں فرضی جھڑپوں کے خلاف عوامی تحریک چلی تو مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے درجنوں واقعات میں 120 نوجوان ہلاک ہوگئے (فائل فوٹو)

ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شورش کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اب حالات بظاہر پرسکون ہیں۔

اس عرصے میں ایک خاتون اور چار نوجوان مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہوئے جبکہ شدید زخمی ہونے والے سات نوجوان مختلف ہسپتالوں میں موت وحیات کی کشمکشں میں مبتلا ہیں۔

اب حالات معمول پر تو آگئے ہیں، لیکن حکومت، فوج اور عوامی حلقوں کے درمیان ایک طرح کی اعصابی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ لیکن اس جنگ کا پس منظر معنی خیز ہے۔

حالات 12 اپریل کو اُس وقت کشیدہ ہوئے جب سرینگر سے شمال کی جانب 70 کلومیٹر دُور ہندوارہ قصبہ میں لوگوں کا ایک مشتعل ہجوم ہند مخالف نعرے بازی کرتا ہوا ایک فوجی بنکر کی طرف چل پڑا۔ فورسز نے ان پر فائرنگ کر دی جس میں دو نوجوان ہلاک ہو گئے۔

لوگوں نے الزام عائد کیا کہ ایک فوجی اہلکار نے سکول سے آنے والی ایک لڑکی پر اُس وقت جنسی حملہ کیا جب وہ بیت الخلا گئی تھی۔ مظاہروں کا دائرہ پھیلا اور اس کے ساتھ ہی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی۔

اسی دوران پولیس نے ایک ویڈیو جاری کر دی جس میں مذکورہ لڑکی نے انکشاف کیا کہ انھیں فوجی نے نہیں بلکہ مقامی نوجوانوں نے چھیڑا تھا۔ پولیس نے لڑکی کو والد اور اس کی خالہ سمیت ’احتیاطی حراست‘ میں رکھا ہے جس پر عوامی حلقوں نے زبردست احتجاج کیا۔

فوج، پولیس یا سرکاری اداروں کی کشمیر میں اعتماد کا اس قدر فقدان ہے کہ اس ویڈیو سے عوامی غیظ و غضب میں اضافہ ہوا اور حکومت نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ کو مکمل طور پر معطل کر دیا۔ اس دوران انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور بعض وکلا نے لڑکی کی والدہ کو سرینگر میں میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

پھر بھی وہ خاتون ایک ویڈیو بیان دینے میں کامیاب ہوگئیں۔ انھوں نے دعوی کیا کہ لڑکی نے بیان پولیس اور فوج کے دباؤ میں خوفزدہ ہو کر دیا ہے۔ عدالت نے بھی پولیس سے جواب طلب کیا کہ آخر کس قانون کے تحت نابالغ لڑکی اور اس کے لواحقین کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

اتوار کے روز بھی ناکہ بندی اور دوسری پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا، لیکن دن بھر بارش کی وجہ سے مظاہروں کی شدت کم رہی۔

اسی روز پولیس نے اس سارے تنازعے کا مرکز اُس لڑکی اور اس کے والد کو عدالت میں پیش کیا، جہاں اس نے وہی بات دہرائی جو اس نے ابتدا میں ویڈیو بیان میں کہی تھی۔ بلکہ یہاں تک کہا کہ اس پر حملہ کرنے والے دو مقامی نوجوانوں میں سے ایک سکول وردی میں ملبوس تھا۔

اس بیان سے اب حکومت ، فوج، پولیس اور عوامی حلقوں کے درمیان ایک طرح کی اعصابی جنگ چھڑ گئی ہے۔

فوج، پولیس اور حکومت کا اصرار ہے کہ محض ایک افواہ پر نوجوانوں نے اشتعال انگیز مظاہرے کیے اور فوجی تنصیبات پر دھاوا بول دیا جس کے جواب میں فوج یا پولیس نے ’ذاتی دفاع‘ میں گولی چلائی۔

اس بیانیے کو لے کر کئی کالم نویس بھی سرگرم ہیں اور کشمیریوں میں افواہ بازی اور اشتعال انگیزی کی تاریخی وجوہات کھنگالنے لگے ہیں۔

یہ درست ہے کہ فوج یا پولیس کے بارے میں یہاں کے لوگ اس قدر حساس ہیں کہ محض سنی سنائی بات پر بھی مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں، لیکن اس سارے قضیے میں ایک بات گم ہوکر رہ جاتی ہے کہ امن و قانون سے جُڑے کسی بھی تنازعے کے ردعمل میں حکومت کا ایک ہی جواب ہوتا ہے اور وہ ہے گولی۔ اور گولی بھی مظاہرین کی ٹانگوں پر نہیں بلکہ ان کے سروں یا چھاتی پر لگتی ہے۔

سرکاری ردعمل کی سنگینی دیکھیے کہ ہندوارہ میں ہلاک ہونے والی خاتون کے سر میں اُس وقت گولی لگی جب وہ صحن میں کام کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوج، پولیس اور حکومت کا اصرار ہے کہ محض ایک افواہ پر نوجوانوں نے اشتعال انگیز مظاہرے کئے اور فوجی تنصیبات پر دھاوا بول دیا جسکے جواب میں فوج یا پولیس نے ’ذاتی دفاع‘ میں گولی چلائی

لڑکی کی چھیڑچھاڑ کے کیس میں کئی پیچ و خم ہو سکتے ہیں، لیکن متاثرین کہتے ہیں کہ اس تنازعے میں انصاف کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں ہندوارہ کا نعیم قادر نامی نوجوان ایک معروف کرکٹ کھلاڑی تھا۔

ان کے دوست وسیم احمد کہتے ہیں: ’ہم سے لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ سب ایک افواہ کی وجہ سے ہوا۔ لڑکی کے بیان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں ہمارے لوگوں کا جو قتل ہوا اُس کا کیا؟ ارے صاحب میں کہتا ہوں یہ کسی افواہ کا نہیں بلکہ ایک قتل کا مسئلہ ہے۔‘

حکومت نے پہلے ہی اس سلسلے میں تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور 27 اپریل تک رپورٹ پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گذشتہ برس مارچ میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی اور 13 ماہ کے عرصے میں بےگناہ شہریوں کے قتل کے آٹھ واقعات رونما ہوئے اور ہر بار حکومت نے تحقیقات کا اعلان کیا۔

ہر بار تحقیقات کی مدت 15 سے 21 دن بتائی گئی مگر ابھی تک ایک بھی واقعے میں تحقیقات پوری نہیں ہوئیں یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو حکومت کے ایسے وعدوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔

کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک سے منسلک واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کا ایک خاص پس منظر ہو سکتا ہے۔ لیکن بنیادی حقوق کے لیے ہونے والے مظاہروں کے دوران یہاں پر تعینات فورسز پر ہلاکت خیز فائرنگ ایک تاریخی معمول ہے۔

40 سال قبل جب کشمیر کے تجارتی مرکز لال چوک میں مرد، خواتین اور بچوں نے بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، تو پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں نصف درجن سے زائد افراد مارے گئے۔

جنوری 2012 میں شمالی ضلع بانڈی پورہ میں واقع انڈیا کے نیشنل ہائیڈل پاور پروجیکٹ کے باہر لوگوں نے کشمیر کے پانیوں سے بجلی پیدا کر کے بھارتی ریاستوں کو سپلائی کرنے اور وادی کو تاریک کرنے کی پالیسی کے خلاف مظاہرہ کیا، تو فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ ایک 18 سالہ طالب علم ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لڑکی کی چھیڑچھاڑ کے کیس میں کئی پیچ و خم ہو سکتے ہیں، لیکن متاثرین کہتے ہیں کہ اس تنازعے میں انصاف کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے

چھ سال قبل جب کشمیر میں فرضی جھڑپوں کے خلاف عوامی تحریک چلی تو مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے درجنوں واقعات میں120 نوجوان ہلاک ہوگئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے انڈیا پر تنقید کی تو کشمیر میں مظاہروں سے نمٹنے کی ’غیرمہلک پالیسی‘ کا اعلان کر دیا۔ اس پالیسی کے تحت پولیس کو کالی مرچ کی گیس والے پمپ گن اور ربر کی گولیاں فائر کرنے والی خصوصی بندوقیں دی گئیں۔ اربوں روپے سے خریدے گئے ان ہتھیاروں کے استعمال سے اب تک درجنوں نوجوان بینائی کھو چکے ہیں اور ایک بڑی تعداد پھیپھڑوں کے مہلک مرض میں مبتلا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ کشمیر میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہند مخالف نعرے بازی کو ہی ردعمل کا معیار ٹھہرایا گیا ہے۔ مصنف اور سماجی رضاکار اعجاز سلیم کہتے ہیں: ’فوج اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے پالیسی ساز اب مظاہروں کی لہر کو ’ایجی ٹیشنل ٹیررازم‘ کہتے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرح ، احتجاج کرنے والا غیرمسلح نوجوان بھی گولی کا ہی مستحق ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ ایک خطرناک پالیسی ہے، جب تک نئی دہلی کا یہ رویہ ہے، تب تک مظاہرہ کسی افواہ کے نتیجے میں ہو یا بجلی پانی سڑک کے مطالبے پر، حکومت کسی بھی بولی کا جواب گولی سے ہی دے گی۔‘

اسی بارے میں