انڈیا میں سخت قحط سے کروڑوں لوگ متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بارش کی کمی کے سبب فصلیں متاثر ہو رہی ہیں

انڈین حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ملک کے 256 اضلاع میں بسنے والے تقریباً 33 کروڑ لوگ اس برس شدید ترین قحط سے متاثر ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی قلّت کے سلسلے میں ابھی بعض ریاستوں کی طرف سے رپورٹیں نہیں دستیاب ملیں، اس لیے اس تعداد میں اور اضافے کا امکان ہے۔

بھارت کا زیادہ تر انحصار مون سون کی بارشوں پر ہے اور گذشتہ دو برس سے مسلسل بارش اچھی نہیں ہو رہیں۔

قحط سالی کی یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر چل رہی ہے اور درجہ حرارت اپریل کے مہینے میں ہی 40 سینٹی گریڈ سے اوپر چل رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ sameeratmaj mishra
Image caption قحط کی یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی لہر چل رہی ہے اور درجہ حرارت اپریل کے مہینے میں ہی 40 سینٹی گریڈ سے اوپر چل رہا ہے

شدید گرمی کے سبب مشرقی ریاست اڑیسہ میں تمام سکول بند کر دیے گئے ہیں اور اڑیسہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سو سے زائد لوگ لو کے اثر سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

قحط سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں سے ریاست مہاراشٹر نے پانی کی قلت کے سبب ہی آئی پی ایل کے کئي میچ اس لیے دوسری جگہوں پر منتقل کر دیے ہیں کیونکہ پچیں تیار کرنے کے لیے پانی کی کمی ہے۔

اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں پانی کی قلت کے ہی تذکرے ہیں اور ذرائع بلاغ میں اس موضوع پر باتیں بھی ہونے لگی ہیں۔ بارش کی کمی کے سبب فصلیں متاثر ہو رہی ہیں اور ملک کے کسان بہت پریشان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ S N Parihar
Image caption بہت سے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے لیے لوگوں دور دراز علاقوں تک جانا پڑتا ہے

مہاراشٹر میں حکام نے سوئمنگ پولز جیسی جگہوں پر پانی کی فراہمی پر پابندی لگانے جیسے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاتور کے علاقے میں پانی کی شدید قلت کے سبب وہاں ریل کے ذریعے تقریباً پانچ لاکھ لیٹر پانی مہیا کیا گیا ہے۔

پانی سے لدی ایک اور ٹرین بھی اس علاقے کے لیے روانہ کی گئی ہے۔

بھارت میں پانی کی تقسیم ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور کئی ریاستوں میں پانی کے بٹوارے کے حوالے سے تنازع ہے۔

اسی بارے میں