’بیٹی دی تو سمجھو کہ پورا گھر دے دیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دہلی کے ایک نواحی گاؤں میں گذشتہ ہفتے سلمیٰ اور ان کی دو بہنوں کی شادی ہونی تھی لیکن باراتیں تین نہیں صرف دو آئیں۔

سلمیٰ کے مطابق ان کے سسرال والوں نے شادی سے ذرا پہلے ان کے والد عبدالرزاق سے ایک بڑی گاڑی اور پانچ لاکھ روپے نقد کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنے سمدھی کو منانے کے لیے عبدالرزاق نے ان سے رابطہ کیا۔ ’انھوں نے کہا کہ گاڑی اور پیسہ ملے گا تو بارات آئے گی ورنہ نہیں، میں نے کہا کہ یہ میری حیثیت سے باہر ہے لیکن وہ اپنے مطالبے پر اڑے رہے۔‘

سلمیٰ کے اصرار پر عبدالرزاق نے لڑکے والوں کے خلاف جہیز مانگنے کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

’میں نے اپنے ابو سے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں تاکہ سب تک یہ پیغام پہنچے کہ جہیز بالکل نہیں لینا چاہیے۔ ماں باپ کے لیے سب سے بڑی دولت ان کی لڑکی ہوتی ہے، جہیز نہیں، انھوں نے اپنی بیٹی دے دی تو یہ سمجھیے کہ اپنا پورا گھر لٹا دیا۔ میری والدہ نے بھی کہا کہ اگر میری بیٹی اس گھر میں چلی جاتی تو اس کے لیے زندگی بھر کا رونا ہو جاتا۔‘

سلمیٰ نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہے اور ان کے مطابق پہلے لڑکے والوں کا کہنا تھا کہ انھیں صرف ایک دیندار لڑکی چاہیے۔ ’پھر وہ کہنے لگے کہ ہمیں تو پیسہ چاہیے۔ میں ایسے گھر میں نہیں جانا چاہتی جہاں پیسے کی قدر ہو، میرے دین کی نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اکثر لڑکی والے بدنامی کے ڈر سے شرائط مان لیتے ہیں جو عام طور پر شادی سے ذرا پہلے کی جاتی ہیں

عبدالرزاق نے اپنے اہل خانہ اور برادری کے بزرگوں سے مشورہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس لڑکے سے سلمیٰ کی شادی نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھی اچھا ہوا کہ ہمیں بروقت پتہ چل گیا۔ شادی کے بعد وہ نئے مطالبات کرتے تو انھیں میں کیسے پورا کرتا، وہ میری بیٹی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے تو میں کیا کرتا؟‘

اس کیس میں تو لڑکے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ اکثر اوقات لڑکی والے بدنامی کے ڈر سے شرائط مان لیتے ہیں جو عام طور پر شادی سے ذرا پہلے کی جاتی ہیں لیکن سلمیٰ نےایسا نہیں ہونے دیا۔

انڈیا کے کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2014 میں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار لڑکیوں کو جہیز کے لیے قتل کیا گیا۔ اسی دوران جہیز کے لیے لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے الزام میں دس ہزار سے زیادہ مقدمات قائم کیے گیے۔

سپریم کورٹ کی وکیل کرونا نندی جہیز کے مقدمات میں عورتوں کی مدد کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اعداد و شمار مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ جہیز سے متعلق مقدمات کی تعداد بڑھی ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی لڑکی جو شاید پہلے خاموش رہتی، اب پولیس کے پاس جانے کی ہمت کر رہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لالچ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے یہ واقعات بڑھ رہے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ کچھ فرضی مقدمات بھی قائم کرائے جاتے ہیں۔‘

لیکن وہ کہتی ہیں کہ جب سلمیٰ جیسی لڑکیاں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں تو انھیں دیکھ کر دوسری لڑکیوں کو بھی حوصلہ ملتا ہے۔

لیکن عام تاثر یہ ہے کہ جہیز مانگنے والوں کی آرزؤں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور دینے والوں کے دکھاوے میں بھی۔

اسی اتوار دہلی کے قریب ایک شادی میں لڑکی والوں نے جہیز میں دو بڑی گاڑیاں دیں، ایک دولھا کے لیے اور ایک سمدھی کے لیے۔

دونوں گاڑیاں سجا کر شادی ہال کے دروازے پر ہی کھڑی کی گئی تھیں تاکہ سب دیکھ سکیں۔

ہندوستان میں یہ گھر گھر کی کہانی ہے، لیکن سلمیٰ جیسی لڑکیاں معاشرے کی سوچ بدل سکتی ہیں۔

اسی بارے میں