’مجھے اپنا مستقبل چننے کی آزادی مل گئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Arshad Ron BBC
Image caption اسما کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انوکھا نہیں۔ بنگلہ دیش میں کمسنی کی شادی کی شرح دنیا بھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی اسما صرف 16 برس کی تھیں جب ایک کچی آبادی میں مقیم ان کے شوہر نے انھیں گھر سے نکال دیا۔

لیکن اس وقت ہمت ہارنے کی بجائے اسما نے اپنی زندگی بہتر بنانے کی ٹھان لی۔

’اگر لوگ مجھ سے میرے شوہر کے بارے میں دریافت کرتے تو میں انھیں بتاتی کہ وہ مر چکا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’شادی سے پہلے بھی میری زندگی مشکلات کا شکار تھی اور شادی کے بعد بھی وہ آسان نہیں ہوئی۔ وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر مجھے مارا کرتا تھا۔ میرے سر پر آج بھی اس پٹائی کے نشان موجود ہیں۔‘

اسما بنگلہ دیش کے ساحلی قصبے بھولا میں پیدا ہوئی تھی لیکن جب ان کا گھر اور قابلِ کاشت زمین سیلاب کی نذر ہوئی تو اسما کے اہلِ خانہ نے بہت سے دیگر خاندانوں کے ہمراہ کام کی تلاش میں ڈھاکہ کا رخ کیا۔

ڈھاکہ کے مضافات میں واقع دوریپرا کی کچی بستی ان کا ٹھکانہ بنی۔ اس بستی میں 40 ہزار سے زیادہ افراد ٹین سے بنی جھونپڑیوں میں قیام پذیر ہیں۔

اسما کے والد قوتِ سماعت سے محروم ہیں اور انھیں ڈھاکہ شہر میں کام نہ ملا۔ اس پر ان کی والدہ نے بھیک مانگنی شروع کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arshad Ron BBC

اسما بتاتی ہیں کہ ’میرے والدین غریب ہیں۔ مجھے امید تھی کہ جب میری شادی ہوگی تو ان کی مشکلات میں کمی آ جائے گی کیونکہ پھر انھیں صرف میرے چھوٹے بھائی کا پیٹ پالنا پڑے گا۔‘

ڈھاکہ آمد کے کچھ عرصے بعد ایک 27 سالہ شخص نے اسما سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔

اس وقت اسما کی عمر صرف 15 برس تھی لیکن بیٹی کے کم عمر ہونے کے باوجود اسما کے والدین اس شادی پر تیار ہوگئے۔

شادی کے اگلے ہی ماہ اسما کے شوہر کا رویہ تبدیل ہوگیا اور اس نے انھیں مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔

دو ماہ بعد اس نے 20 ہزار ٹکا بطور جہیز لانے کا مطالبہ کیا جبکہ شادی سے قبل جہیز کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور اسما کے غریب والدین اتنی رقم دینے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے تھے۔

شادی کے پانچ ماہ بعد اسما کے شوہر نے اعلان کیا کہ وہ اسے چھوڑ کر جا رہا ہے اور اس وقت تک نہیں لوٹے گا جب تک وہ یہ رقم نہیں لے آتی۔

اسما بتاتی ہیں کہ ’اس وقت سے میں نے اسے نہیں دیکھا۔ اگر وہ مجھے سڑک پر مل بھی جائے تو میں اسے نہیں پہچانوں گی۔ میں نہیں جانتی کہ وہ کیا کر رہا ہے یا پھر اس نے دوسری شادی تو نہیں کر لی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شوہر کے چلے جانے کے بعد اسما اپنے والدین کے گھر واپس آ گئیں اور فوراً ہی کام کی تلاش میں لگ گئیں

ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کے دوست انھیں بتاتے ہیں کہ اگر اسما اسے دکھائی دے گئیں تو وہ انھیں مارے گا۔

اسما کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انوکھا نہیں۔ بنگلہ دیش میں کمسنی کی شادی کی شرح دنیا بھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

یہاں قانونی طور پر لڑکی کی شادی کی عمر 18 برس مقرر ہے لیکن 20 فیصد لڑکیوں کی شادیاں 15ویں سالگرہ سے قبل ہو جاتی ہیں۔

شوہر کے چلے جانے کے بعد اسما اپنے والدین کے گھر واپس آ گئیں اور فوراً ہی کام کی تلاش میں لگ گئیں۔

دس برس کی عمر میں تعلیم کو خیرباد کہنے کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ مواقع نہیں تھے لیکن ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انھیں ملازمت مل گئی۔

’میں نے ہر کسی سے نوکری کی بات کی اور پھر مجھے کپڑے سینے کے نئے کارخانے کا پتہ چلا۔‘

وہ اس کارخانے میں ملازم ہوگئیں تاہم یہاں اوقاتِ کار طویل اور تنخواہ واجبی سی ہے۔

تاہم تین ہزار ٹکا کی یہ تنخواہ اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو ان کے والدین کما پاتے ہیں اور ان کی نوکری کی بدولت اب ان کے گھر میں تین وقت کا کھانا پکنے لگا ہے۔

’میری ماں بہت خوش تھیں۔ میں نے انھیں کہا کہ وہ گھر میں رک کر میرے والد اور چھوٹے بھائی کی دیکھ بھال کریں۔ میں نے انھیں کہا کہ اب اس گھر کا مرد میں ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اب اسما پر سے شادی کر کے گھر بسانے کا دباؤ بھی ختم ہو چکا ہے اور وہ خود کو آزاد محسوس کرتی ہیں

’میں وہ سب کام کر سکتی ہوں جو مرد کرتے ہیں۔ میں اپنا گھر چلا رہی ہوں۔ نوکری اور خود کو ایک مرد کی طرح سمجھنے نے مجھے وہ اعتماد دیا ہے کہ اب جب میں بولتی ہوں تو سب میری بات سنتے ہیں۔‘

اب اسما پر سے شادی کر کے گھر بسانے کا دباؤ بھی ختم ہو چکا ہے اور وہ خود کو آزاد محسوس کرتی ہیں۔

’مجھے اپنا مستقبل چننے کی آزادی ملی ہے۔ میں کبھی بھی دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہوں گی۔‘

ملازمت کے دوران انھوں نے نئے دوست بنائے ہیں۔

’وہ مجھے کہتے ہیں کہ میں انھیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی جگہ سمجھوں۔ اگر کام کے دوران ڈانٹ پڑے اور میں روؤں تو وہ مجھے دلاسہ دیتے ہیں۔‘

اسما اس ملازمت میں آگے بھی بڑھنا چاہتی ہیں۔ ’میں نئی چیزیں سیکھنا چاہتی ہوں۔ میں ایک دن فیکٹری کی سپروائزر بننا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں