کشمیر میں ’لشکر طیبہ‘ کے تین شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بارہ اپریل کو فوجی اہلکار کی ایک کم سن لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے پر کشمیر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے

بھارتی زیرانتظام کشمیر کے کپوارہ ضلعے میں ایک ہفتے تک گڑبڑ جاری رہنے کے بعد حالات معمول پر آتے ہی ضلع کے سرحدی علاقوں میں دوبارہ کشیدگی پھیل گئی ہے۔

فوجی ترجمان کرنل این این جوشی کے مطابق جمعرات کی صبح لولاب کے پتوشاہی علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تو فوج اور پولیس نے مشترکہ آپریشن شروع کیا جس کے دوران شدت پسندوں نے فائرنگ کی۔

کپوارہ کے اعلیٰ پولیس افسر اعجاز احمد نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں تین مسلح شدت پسند مارے گئے تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس کے مطابق مارے گئے شدت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

اعجاز احمد نے کہا کہ اس علاقے میں لشکر طیبہ نامی مسلح تنظیم سے وابستہ چار شدت پسند سرگرم تھے، تاہم ابھی تک صرف تین کی لاشیں ملی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر شدت پسندوں کی تلاش کے لیے وسیع آپریشن شروع کیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ کپوارہ کے ہندوارہ قصبہ میں 12 اپریل کو فوجی اہلکار کی ایک کم سن لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے جس کے بعد مظاہرین پر فوج اور پولیس کی فائرنگ کے دوران ایک خاتون اور چار نوجوان ہلاک ہوگئے۔

ایک ہفتے تک کرفیو اور دیگر پابندیوں کے بعد ضلعے میں اب حالات پرسکون ہیں لیکن فوج کا کہنا ہے کہ موسم سرما ختم ہوتے ہی پاکستانی سرحد کے قریبی علاقوں میں مسلح شدت پسند سرگرم ہو گئے ہیں۔

بھارتی فوج کی سرینگر میں تعینات 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایس کے دوا کا کہنا ہے کہ گھنے جنگلوں اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے ایل او سی پر دراندازی کے واقعات کو مستقل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔

جنرل دُوا کہتے ہیں: ’مجھے یہ اعتراف کرنے میں حرج نہیں کہ گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی چوٹیوں کی وجہ سے ہر سال کسی نہ کسی طرح مسلح افراد ہمارے علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں، لیکن ہماری منصوبہ بندی اور جنگی حکمت عملی کے باعث وہ یا تو سرحد پر ہی مارے جاتے ہیں یا انھیں کپوارہ میں نقل و حرکت کے دوران ہلاک کیا جاتا ہے۔‘

جنرل دُوا نے بتایا کہ گذشتہ برس لائن کنٹرول کے کپوارہ سیکٹر میں مسلح دراندازی کی چھ سو کوششوں کو ناکام بنا دیاگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپوارہ کے ہندوارہ قصبi میں 12 اپریل کو فوجی اہلکار کی ایک کم سن لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے جس کے بعد مظاہرین پر فوج اور پولیس کی فائرنگ کے دوران ایک خاتون اور چار نوجوان ہلاک ہوگئے (فائل فوٹو)

دریں اثنا جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پولیس نے بتایا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر جب پولیس نے ہاکری پورہ نامی گاؤں کا محاصرہ کیا تو وہاں موجود مسلح شدت پسندوں نے فائرنگ شروع کر کی۔ کراس فائرنگ میں کوئی زخمی نہِیں ہوا تاہم شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی تلاش کے لیے کئی دیہات میں تازہ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

واضح رہے گذشتہ دہائی کےدوران کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح بہت کم ہوگئی ہے، لیکن مقامی نوجوان زیر زمین کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں جسے سکیورٹی ایجنسیاں ایک نیا چیلنج قرار دے رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق رواں برس کے ابتدائی تین ماہ کے دوران مختلف تصادموں کے دوران 32 مسلح شدت پسند مارے گئے جو 2011 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت 150 مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جن میں 85 مقامی نوجوان شامل ہیں۔

اسی بارے میں