کشمیر:’لڑکی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی خبر کے بعد ہندوارا مظاہرے شروع ہوئے جس میں فوج کی فائرنگ سے اب تک پانچ افراد ہلاک ہلاک ہو چکے ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے ہدواڑا میں ایک لڑکی سے مبینہ چھیڑ چھاڑ اور فائرنگ میں ہلاکتوں کے معاملے میں ہائی کورٹ کے حکم پر مذکورہ لڑکی سے ملاقات کرنے والے وکلا نے کہا ہے کہ پولیس نے لڑکی کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

جمعرات کو وکلا کی ایک ٹیم نے متاثرہ لڑکی سے ملاقات کی تھی۔

لڑکی کے اہل خانہ کے وکیل پرویز امروز کے مطابق پولیس لڑکی اور ان کے اہل خانہ کو اپنی مرضی سے کہیں بھی آنے جانے نہیں دیتے ہیں اور نہ ہی کسی کو ان سے ملنے دیا جاتا ہے۔

امروز کا کہنا تھا: ’ہم جمعرات کو لڑکی سے ہندواڑا ملنے گئے تھے۔ پولیس لڑکی کو کسی نامعلوم جگہ سے ان کے ماموں کے گھر لائی جہاں ہم نے لڑکی اور اس کے ماں باپ سے ملاقات کی۔‘

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 12 اپریل سے لڑکی کو ابھی تک حراست میں رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption لڑکی کی حراست کے خلاف ہندوارا اور آس پڑوس کی خواتین نے بھی مظاہرے کیے ہیں

امروز کہتے ہیں: ’پولیس نے حفاظتی تحویل کے نام پر لڑکی کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ لڑکی اور اس کے لواحقین وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن پولیس انہیں اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جانے دیتی ہے۔‘

امروز نے پولیس کی اس رپورٹ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں جس میں پولیس نے بدھ کو ہائی کورٹ میں بتایا تھا کہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ نے اپنی حفاظت کے لیے پولیس سے تحفظ مانگا ہے اور ان کو حراست میں نہیں رکھا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ملاقات کے بعد لڑکی نے کہا کہ جب بھی وہ پولیس کی حراست سے باہر آئے گی تو وہ قانونی جنگ لڑ کر ان سب کو بے نقاب کرے گی جو اس کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش میں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہندوارا میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں اسی لیے متاثرہ لڑکی کو پولیس کی حراست میں رکھا گیا ہے

مگر پولیس ان الزامات سے انکار کر رہی ہے۔ شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی پولیس اتّم چند کہتے ہیں کہ ’ہم نے صرف انھیں تحفظ دیا ہے۔‘

مقامی لوگوں اور لڑکی کی ماں کے مطابق فوج کے ایک جوان نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ لڑکی نے ابھی تک پولیس کی حراست میں دو بیان دیے ہیں جن میں انھوں نے فوج کے جوان کی چھیڑ چھاڑ کی بات سے انکار کیا تھا۔

امروز نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی نے جو دو بیان دیے ہیں وہ دباؤ میں دلوائے گئے ہیں۔

اس معاملے میں پولیس نے ایک مقامی لڑکے ہلال احمد کو چھیڑ چھاڑ کی افواہ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور دوسرے کی تلاش ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لڑکی نے اپنے بیان میں ان دونوں کا نام لیا تھا۔

یہ معاملہ 12 اپریل کا ہے جب سرینگر سے 74 کلومیٹر دور واقع قصبے ہندواڑا میں مقامی لوگوں نے ایک فوجی پر لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد پرتشدد مظاہرے ہوئے اور فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک اور نوجوان کی موت آنسو گیس کا شیل لگنے سے ہوئی تھی۔ فوج کی فائرنگ کے خلاف وادی میں چار دن تک ہڑتال رہی تھی۔

اسی بارے میں