مادام تسود کے لیے مودی کا مومی مجسمہ تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Madaam Tussauds
Image caption ان کے ہر مجسمے پر تقریباً دو لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے اور انہیں تیار کرنے میں چار مہینے لگے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ آپ کو سیلفی لینی ہو تو یہ کام اب کافی آسان ہوگیا ہے۔

اب وہ بھی لندن کے مادام تسود میوزیم میں اب براک اوباما اور امیتابھ بچن جیسی شخصیات کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔

اصل میں تو نہیں، اس کے لیے تو وہ بہت مصروف ہیں، لیکن وہاں ان کے موم کے مجسمے نصب کیے گئے ہیں۔

ان کے مجسمے پر تقریباً دو لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے اور انہیں تیار کرنے میں چار مہینے لگے۔

میوزیم روانہ کیے جانے سے قبل ایک مجسمہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دکھایا گیا جو عجائب گھر کی انتظامیہ کے مطابق انھیں کافی پسند آیا۔

مجسمہ تیار کرنے والے فنکاروں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بہت ہنرمند ہیں اور ’وہ کام انجام دے رہے ہیں جو عام طور پر برہما (ہندو عقیدے کے مطابق دنیا کے خالق) کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other

ان کے مجسمے لندن، سنگاپور، ہانگ کانگ اور بنکاک میں واقع مادام تسود عجائب گھروں میں نصب کیے جائیں گے۔

مودی جب اپنے مجسمے کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوئے تو دونوں میں فرق بتانا مشکل تھا۔

مادام تسود سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں وہ اپنے مجسمے کو ’فنشگ ٹچ‘ دیتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

مودی مادام تسود کے میوزیم میں جگہ پانے والی پہلے بھارتی نہیں۔ ان سے قبل مہاتما گاندھی کے علاوہ امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسی انڈین فلمی شخصیات کے مجسمے وہاں پہلے سے موجود ہیں۔

مادام تسود کی جانب سے ایک بیان میں کہا گيا ہےکہ مودی دنیا کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شامل ہیں اور سوشل میڈیا پر انہیں فالو کرنے والوں کی تعداد سےمعلوم ہوتا ہےکہ لوگوں کی ان میں کتنی دلچسپی ہے۔

مودی خود سیلفی لینے کے شوقین ہیں اور اب ان کے چاہنے والے بھی جب چاہیں گے بے خوف و خطر ان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر سیلفی لے سکیں گے۔

اسی بارے میں