’پاکستان سے طالبان کو مذاکرات پر راضی کرنے کی توقع نہیں رکھتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ARG

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان سے طالبان کو مذاکرات پر راضی کرنے کی توقع نہیں رکھتا بلکہ پاکستان کو مصالحتی عمل میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

پیر کو کابل میں افغان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے اپنے خطاب میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالی۔

٭’کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ امن عمل کا منطقی انجام ہو‘

٭’پاک افغان غیر اعلانیہ جنگ کو ختم کرنا ہوگا‘

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان افغانستان سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کرتا تو وہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ ہفتے ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد افغان صدر پر دباؤ تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر پالیسی بیان دیں۔

اس حملے میں کم از کم چونسٹھ افرد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

کابل نے افغان طالبان کے سب سے مضبوط نیٹ ورک حقانی نیٹ ورک کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ امریکہ نے بھی پاکستان پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ ایسا مطالبہ کر رہا ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی بارہا اس مطالبے کو دہرایا جا چکاہے۔ افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطے بہت پرانے ہیں اور یہ رابطے اب بھی ہیں۔

لیکن اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جب شمالی وزیرستان میں سن 2014 میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپرشن کیاتھا تو امریکیوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیاتھا کہ حقانی نیٹ ورک اب کمزور ہوچکی ہے۔

لیکن بعض مبصرین کے مطابق وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن سے پہلے ہی اس نیٹ ورک کے لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت نے امن مذاکرات کے لیے بہت انتظار کیا لیکن اب وہ اپنی سرزمین کی دفاع کے لیے تمام تر اقدامات اُٹھائیں گے۔

اشرف غنی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چار ملکی امن مذاکرات کے مصالحتی عمل کا پانچواں اجلاس رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ افغان صدر کی جانب سے پاکستان کے بارے میں منفی بیان سامنے آیا ہو۔

گذشتہ ماہ بی بی سی کی یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ افغانستان کی پاکستان سے غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے جسے ختم کرنا ہو گا۔

ادھر بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ افغان طالبان کا ایک وفد مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے قطر سے پاکستان پہنچا ہے۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق اس وفد میں شامل ملا جان محمد اور ملا شہاب الدین دلاور قطر کے دارالحکومت دوحا سے آئے ہیں جبکہ چند طالبان رہنما ان کے ہمراہ پاکستان میں ہوں گے۔

تاہم اس بابت جب پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ادھر اسلام آباد میں افغان سفارتی اہلکاروں نے بھی اس خبر کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

کہا جا رہا ہے کہ کابل پر گذشتہ دنوں طالبان کے ایک بڑے حملے کے بعد پاکستان نے افغان طالبان پر شدید دباؤ ڈالا ہے جس کی وجہ سے یہ رابطے بحال ہوئے ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ شاید یہ مذاکرات رواں ہفتے منعقد ہوں۔ تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ سرکاری اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں