ملک سے غداری کا الزام، یونیورسٹی سے معطل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یونیورسٹی سے معطلی کے ساتھ ساتھ خالد اور بھٹاچاریہ پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے

بھارت کے شہر دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے دو طالب علموں کو کیمپس کے حددو میں احتجاجی پروگرام منعقد کرنے میں تعاون فراہم کرنے پر ’ملک سے غداری‘ کے الزام میں معطل کردیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد پر ایک سمسٹر جبکہ انربان بھٹاچاریہ پر پانچ سال کے لیے کیمپس میں داخل ہونے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

طالب علم رہنما کنہیا کمار اور دونوں طالب علموں پر بغاوت کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

تینوں طالب علموں نے کشمیری شہری افضل گرو کی پھانسی کے خلاف رواں برس نو فروری کو احتجاجی جلسہ منعقد کیا تھا۔

افضل گرو پر سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے منصوبہ ساز کا الزام لگایا گیا تھا، جس کی اُنھوں نے تردید کی تھی۔ کشمیری عسکریت پسندوں کے حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔

سنہ 2013 میں اُن کی پھانسی کے بعد کشمیر بھر میں احتجاج کا آغاز ہوگیا تھا۔

افضل گرو کی پھانسی کے خلاف جے این یو کے طلبا نے نو فروری کو احتجاجی جلسہ منعقد کیا تھا۔ جس کے بعد اُن پر الزام لگایا تھا کہ اِس احتجاج میں بھارت مخالف نعرے لگائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طالب علم رہنما کمار پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے

احتجاج کے بعد کمار کو گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ خالد اور بھٹاچاریہ روپوش ہوگئے تھے، بعد میں دونوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

تینوں طالب علموں پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

طالب علموں کی گرفتاری پر ملک بھر مظاہرے اور جھڑپیں شروع ہوگئی تھی۔

نقادوں نے اِن الزامات کو آزادی اظہار کا قتل قرار دیا تھا، تاہم حکومتی وزیروں نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے، ’ملک دشمن عناصر‘ کو سزا دلانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

یونیورسٹی سے معطلی کے ساتھ ساتھ خالد اور بھٹاچاریہ پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

طالب علم رہنما کمار پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خالد اور بھٹاچاریہ پر ’فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ہوا دینے‘ اور کیمپس میں ’انتشار‘ پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ جبکہ کمار کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور غلط طرز عمل میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔

بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ یہ سزا ’ناقابل قبول‘ ہے اور اُنھوں نے اِس عمل کو ’انتظامیہ کی جانب سے طالب علم سرگرمیوں پر فسطائی دست اندازی‘ قرار دیا ہے۔