سندھ کی کالعدم جماعت پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالف

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین راہداری کا ایک اہم حصہ صوبہ سندھ سے بھی گزرے گا

سندھ کی کالعدم قوم پرست جماعت جیے سندھ متحدہ محاذ نے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے خلاف 25 مئی سے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے جس میں دھرنے اور مظاہرے کیے جائیں گے۔

یہ اعلان جیے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کی 21 ویں برسی پر منعقدہ جلسہ عام کے موقعے پر kیا گیا۔

برسی کے تقریب میں ہر سال جیے سندھ تحریک کے تمام دھڑے شریک ہوتے ہیں۔

جیے سندھ متحدہ محاذ کے روپوش چیئرمین شفیع برفت کا آڈیو پیغام جلسے میں سنایا گیا جس میں انھوں نے چین اقتصادی راہداری کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ بلوچ اور سندھ کے سمندر پر ’چین کی بالادستی‘ قبول نہیں کی جائے گی۔

شفیع برفت کا کہنا تھا پنجاب نے پاک چین اقتصادی راہدری کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ آبادی میں عدم توازن پیدا کر کے وسائل پر قبضہ کیا جاسکے۔

چین راہداری کا ایک اہم حصہ صوبہ سندھ سے بھی گزرے گا جس کی حفاظت کے لیے الگ پولیس فورس بنائی گئی ہے۔

سندھ میں جیے سندھ متحدہ محاذ کا قیام سولہ سال قبل عمل میں آیا تھا اور اس نے جیے سندھ تحریک کی روایتی جدوجہد کو چھوڑ کر مزاحمتی انداز اپنایا۔

تنظیم کے چیئرمین شفیع برفت کا شمار سندھ میں انتہائی مطلوب ملزمان میں ہوتا ہے۔

ان پر ریاست کی مخالفت اور ریلوے ٹریکس اور بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائینوں میں دھماکوں کے الزامات عائد ہیں۔

اس جماعت سے وابستہ کئی کارکن لاپتہ ہوئے اور ایک سال قبل سات نوجوانوں کی تشدد شدہ لاشیں بھی برآمد ہوئی تھیں۔

جیے سندھ متحدہ محاذ کھل کر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی حمایت کرتی ہے۔

اسی بارے میں