کنہیا کمار کا غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Rama Naga
Image caption نو فروری کے بعد سے جے این یو لگاتار خبروں میں ہے

انڈیا کی معروف جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

ان کی یہ بھوک ہڑتال یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان کو دی جانے والی سزاؤں کے خلاف ہے۔

کنہیا کمار کے ساتھیوں عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ نے کہا کہ وہ فروری میں افضل گورو کے بارے میں ہونے والے پروگرام اور پھر اس پر اٹھ کھڑے ہونے والے تنازعے کے متعلق یونیورسٹی کی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کو مسترد کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس پروگرام میں انڈیا مخالف نعرے بلند کیے جانے کے الزامات لگائے گئے تھے جس کے بعد ان تینوں طلبہ کو حراست میں لے لیا گيا تھا۔

پولیس کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں نو فروری کو منعقد ہونے والی ایک تقریب میں انھوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کےساتھ دیس مخالف نعرے بلند کیے۔ یہ تقریب افضل گورو کی پھانسی کو تین برس مکمل ہونے کے موقعے پر منعقد کی گئی تھی۔ افضل گورو کو بھارتی پارلیمان پر سنہ 2001 کے حملے کے سلسلے میں پھانسی دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کنہیا کمار نے جیل سے رہائي کے بعد یادگار تقریر کی تھی اور اسے بہت سے ٹی وی چینل پر براہ راست نشر کیا گيا تھا

ہمارے نمائندے ونیت کھرے نے جے این یو کیمپس سے بتایا کہ یہ لوگ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور اس کے ساتھ دو درجن سے زیادہ افراد ہیں۔ ابھی یونیورسٹی انتظامیہ سے بات نہیں ہو سکی ہے۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کنہیا کمار پر دس ہزار روپے کا جرمانہ کیا گيا جبکہ انربان اور عمر خالد کو یونیورسٹی سے نکالنے کے علاوہ مزید طلبہ کو ہاسٹل سے نکالنے اور دوسرے جرمانے کی سفارشات کی گئی ہیں۔

جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکریٹری راما ناگا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کو واپس نہیں لیا جائے گا، جے این یو میں طالب علموں کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

راما ناگا نے بی بی سی کے نامہ نگار موہن لال شرما سے بات چیت میں الزام لگایا: ’صرف تحقیقاتی کمیٹی ہی غلط نہیں ہے بلکہ اس کی رپورٹ بھی غلط ہے۔ کمیٹی نے 24 گھنٹے کے اندر ہی بہت سے طالب علموں کے خلاف فیصلہ سنا دیا اور کہا کہ یہ لوگ قصوروار ہیں، حالانکہ حتمی رپورٹ میں ان طالب علموں کے نام تک نہیں تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ کو یونیورسٹی سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے

انھوں نے الزام لگایا کہ جے این یو کی نامزد کمیٹی کے سربراہ راکیش بھٹاچاريہ کی ریزرویشن کے خلاف تاریخ رہی ہے اور جن طالب علموں کے خلاف فیصلہ سنایا گیا ہے، ان میں بہت سے طالب علم ایس سی، ایس ٹی (پسماندہ) اور اقلیتی برادریوں سے آتے ہیں۔

راما ناگا نے بتایا کہ ان لوگوں کا پہلے سے ہی مطالبہ تھا کہ ایسے شخص کو کمیٹی کا سربراہ نہ بنایا جائے۔

راما ناگا نے کہا کہ جے این یو کی روایت یہ رہی ہے کہ تمام طرح کی کمیٹیوں میں طلبہ یونین کی بھی نمائندگی ہو۔

اسی بارے میں