ٹی وی پر کام کی وجہ سے موت کی دھمکیاں

شکیلا ابرہیم
Image caption صحافی شکیلا ابرہیم کو کئی مرتبہ جان کی دھمکیاں مل چکی ہیں

جب 1991 میں طالبان نے افغانستان کا اقتدار سنبھالا تو انھوں نے فوراً ہی موسیقی اور تھیئٹر کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی پابندی لگا دی۔ طالبان کے بعد کے دور نے میڈیا میں تیزی دیکھی ہے، لیکن جنگجو ٹی وی کی شخصیات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ یہاں ملک کے سب سے بڑے ٹی وی سٹیشن طلوع میں کام کرنے والی ٹی وی کرنے والی دو خواتین موت کے خطرے میں اپنے کام کے متعلق کچھ بتاتی ہیں۔

شکیلا ابراہیم خیل، نامہ نگار طلوع ٹی وی

شکیلا ابراہیم خیل کی اپنی زندگی بھی ان کہانیوں سے مشابہت رکھتی جو وہ رپورٹ کرتی ہیں۔

طالبان کے دور میں شکیلا کی بہت چھوٹی عمر میں شادی کر دی گئی تھی اور جب اچانک ان کے شوہر کی موت ہو گئی تو بوڑھے والدین اور تین بچوں کا بوجھ بھی ان پر آن پڑا۔

2011 میں امریکی سربراہی کے اتحاد کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد انھوں نے تعلیم حاصل کی اور بالآخر بطور ایک صحافی کام کرنا شروع کر دیا۔

شکیلا نے ہی 2012 میں 15 سالہ اس افغان دلہن ساحر گل کی کہانی لکھی تھی جس پر اس کے شوہر اور اس کے رشتہ داروں نے صرف اس لیے تشدد کیا کہ اس نے جسم فروشی سے انکار کر دیا تھا۔

اس رپورٹ نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا تھا اور افغانستان میں بھی کافی غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا۔

لیکن افغانستان میں عورتوں کی حالتِ زار کو سامنے لانے کی وجہ سے انھیں شدت پسندوں کی طرف سے موت کی دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اسی طرح کا ایک مسئلہ گذشتہ کئی برسوں میں افغانستان میں ہونے والے خود کش دھماکوں کی رپورٹ کرنا بھی تھا۔

حملوں کے بعد بچنے والوں اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے انٹرویو کرنے کی وجہ سے بہت مشہور ہوئیں۔

’ہم ان کا ایک پروفائل بناتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ہمارے کام کا ایک حصہ ہے۔‘

اس سال کے آغاز میں ابراہیم خیل کو خود کش بم حملے کی رپورٹنگ کا ایک اور تلخ تجربہ اس وقت ہوا جب ان کے اپنے ہی ٹی وی طلوع کو نشانہ بنایا گیا۔

20 جنوری کو طالبان کے ایک خود کش بمبار نے طلوع ٹی وی کے عملے کو لے کر جانے والی وین میں بارود سے بھرا ایک ٹرک مار دیا۔ اس حملے میں سات ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

Image caption طلوع ٹی وی کے گیٹ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات

’میں ہر اس نام کے ساتھ رونا چاہتی تھی جو میں نے پڑھا۔ یہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ تھا، جب اپنے ساتھی کھو دیتے ہیں۔‘

لیکن ان کا اصرار ہے کہ حملے نے انھیں مزید نڈر بنا دیا ہے۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ طلوع دبانے کا مطلب افغانستان میں آزادی اظہار کو دبانا ہے اور ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ یہ نہیں ہونے دیں گے۔‘

کابل میں صحافیوں کو پتہ ہے کہ غیر ملکی افواج کے جانے کے بعد ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال کتنی خطرناک اور معیشت کی غیر مستحکم ہے۔

اس سب نے انھیں بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔ کیا وہ خطرات کے باوجود یہاں رکیں اور لوگوں کی مصیبت کی کہانیاں بتاتے رہیں؟ یا وہ ہزاروں دوسرے لوگوں کی طرح اپنے خاندان کے متعلق پہلے سوچیں اور یہاں سے نکل جائیں۔

ابراہیم خیل کو بھی اسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں کابل سے ملنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ بھی افغانستان چھوڑ کر ترکی منتقل ہو گئیں ہیں اور آج کل وہیں رہ رہی ہیں۔ معلوم نہیں کہ وہ کب اپنے وطن واپس لوٹیں گی لیکن ان کا کہنا ہے کہ اپنے مادرِ وطن میں بچوں کی پرورش اب بڑی پرخطر ہو گئی ہے۔

آریانہ سیعد، گلوکارہ اور افغان سٹار کی جج

تصویر کے کاپی رائٹ internet
Image caption آریانہ سیعد کے شو کے دوران ان کے ٹی وی کے عملے کو نشانہ بنایا گیا

افغان سٹار، پوپ آئیڈل کی طرح کا ایک پروگرام ہے اور یہ افغانستان میں ٹی وی پر چلنے والا ایک مشہور شو ہے۔ لیکن طالبان اسے ’بے حیائی‘ اور ’بداخلاقی‘ پھیلانے والا ایک پروگرام سمجھتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔

اس کی وجہ سے آریانہ سیعد، جو پروگرام کی خاتون جج ہیں، اور افغانستان کی ایک بہت مشہور گلوکارہ بھی ہیں، طالبان کا ایک اہم ہدف بن گئی ہیں۔

وہ سر پر سکارف نہیں پہنتیں اور دنیا میں کسی اور پاپ دیوا کی طرح تنگ کپڑے پہن کر پرفارم کرنا پسند کرتی ہیں۔ ان کے گیت جن میں انھوں نے خواتین کو کہا ہے کہ وہ مضبوط رہیں، اور بہتر مستقبل کے لیے اپنی جنگ ترک نہ کریں، افغان خواتین کے لیے نعرے بن گئے ہیں۔

اکثر چیزوں میں وہ ان چیزوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو طالبان اور دوسرے سخت گیر افغانستان میں نہیں چاہتے جیسا کہ خواتین کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور گذشتہ 15 برس میں جو حاصل کیا ہے اس پر قائم رہنے کا عزم۔

Image caption آریانہ فٹبال سٹیڈیم میں ہونے والے کنسرٹ کے دوران

طالبان نے 12 اکتوبر 2015 کو طلوع چینل کے خلاف ایک بیان جاری کیا تھا اور اس پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔

جب بھی وہ لندن سے افغانستان پرفارم کرنے جاتی ہیں تو اس طرح کی افواہیں گردش کرتی ہیں کہ انھیں خطرہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں بتایا جاتا ہے کہ ’اس ہفتے وہ آریانہ پر حملہ کریں گے، وہ آریانہ کو مار دیں گے اور اس طرح کی باتیں۔‘

’مجھے ڈر لگتا ہے لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ میں نے یہ راستہ چنا ہے اور میں اسے آدھے راستے پر نہیں چھوڑ سکتی۔ مجھے کسی طرح اسے ختم کرنا ہے۔‘

گذشتہ برس کابل کے نیشنل فٹبال سٹیڈیم میں ان کی پرفارمنس کے بعد دیہ جانے والی جان کی دھمکیوں کے بعد لگتا ہے کہ وہ کبھی یہاں دوبارہ پرفارم نہیں کر سکیں گے۔

اور پھر افغان سٹار کی سیریز کے دوران طلوع ٹی وی کی وین پر حملہ بھی ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم درحقیقت افغان سٹار کے سیٹ پر تھے۔ جب ہم نے شو ختم ہی کیا تو ہم نے دھماکہ سنا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکیورٹی کی وجہ سے آریانہ کو شو کے دوران بلٹ پروف جیکٹ پہننا پڑتی ہے

سیعد اور شو پر موجود دیگر افراد کو فوراً سٹوڈیو سے ہوٹل منتقل کر دیا گیا۔ چینل کے لیے کام کرنے والے بیرون ممالک سے آئے ہوئے افراد کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا لیکن سیعد ٹھہری رہیں۔

’میں نے سوچا کہ کچھ بھی ہو، اگر میں نے مرنا ہے تو میں نے مرنا ہے، یہ میری قسمت میں ہے، آپ کہیں بھی مر سکتے ہیں، دنیا کے کسی بھی حصے میں، اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہار نہیں مانوں گی۔ میں نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ میں واپس جاوں گی۔‘

لیکن اس کے بعد انھیں بلٹ پروف جیکٹ پہنائی جانے لگی۔

’میں نے سوچا کہ یہ کتنا عجیب ہے افغانستان میں ایک گلوکارہ ہوتے ہوئے مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے میں حقیقت میں جنگ پر جا رہی ہوں۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔‘

’اور یہ بھاری بھی ہے۔ لیکن میں کیا کر سکتی ہوں۔‘

سیعد شو کے مکمل ہونے تک افغانستان میں رہیں۔ اور آخری شو سے کے ایک دن بعد وہ بالآخر اپنے گھر لندن دوانہ ہو گئیں۔

اسی بارے میں