قحط کے مارے کسان باڑوں میں رہنے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مہاراشٹر شدید خشک سالی کی زد میں ہے جس سے لاکھوں کسان متاثر ہوئے ہیں

پانچ ماہ قبل تین بھائیوں اور ان کی بیویوں پر مشتمل گھولپ خاندان انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے علاقے بیڑ میں اپنا خشک سالی سے متاثرہ گاؤں چھوڑ کر ٹاٹ کی چھتوں والی گھاس پھونس سے بنی کچی آبادی منتقل ہو گیا۔

وہ اپنے ہمراہ 21 مویشی، کچھ کپڑے اور برتن، ایک رسی سے بندھا بستر اور ایک دیوار گیر کیلنڈر ساتھ لے کر گئے۔

٭ انڈیا شدید قحط کی گرفت میں

اُن کے گاؤں میں تین سال سے بارش نہیں ہوئی تھی جس کی بنا پر اُن کے تین ایکڑ پر محیط کھیت بنجر ہو گئے، مویشیوں کے لیے چارا ختم ہو گیا اور کنویں سوکھ گئے۔ اس لیے گھولپ خاندان نے اپنے بوڑھے والدین کے ہمراہ سکول جانے والے چار بچوں کو پانی اور چارے کی تلاش کے لیے گھر میں چھوڑا اور پلوان آ بسے۔

یہاں پناہ گاہ میں انھیں حکومت کی جانب سے یہ دونوں چیزیں مُفت اور وافر مقدار میں مہیا کی گئیں۔ بال بھیم گھولپ کے مطابق ’اب ہمارا گھر یہ ہے۔ اگر ہم واپس گئے تو فاقوں سے مر جائیں گے۔‘

پلوان کی پناہ گاہ بیڑ میں واقع 267 کیمپوں میں سے ایک ہے۔ بیڑ کا شمار انڈیا کے 265 ایسے ضلعوں میں ہوتا ہے جنھیں خشک سالی نے شدید متاثر کیا ہے۔

یہاں ان لوگوں کو مفت پانی اور جانوروں کو چارا دیا جاتا ہے۔ ہزاروں کسانوں کے علاوہ 28 ہزار سے زائد مویشی بھی اِن کیمپوں میں رہتے ہیں۔

مایوس زندگی

مہاراشٹر قحط کے باعث ویران ہوگیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ خشک سالی کا شمار صدیوں میں سب سے بدترین خشک سالی میں ہوتا ہے۔ گھولپ خاندان کے یہ بھائی تقریباً 90 لاکھ متاثرہ کسانوں میں سے ایک ہیں۔

اپا صاحب مسکے گھولپ کے پڑوسی ہیں، ان کے پاس 15 ایکڑ اراضی ہے اور کچھ زیادہ پُرانی بات نہیں کہ 35 سالہ مسکے خوشحال کسان تھے۔ لیکن اب وہ بھی اپنے پانچ بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ گھر چھوڑ کر 20 مویشیوں کے ہمراہ اس پناہ گزین کیمپ میں رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میں بہت زیادہ زمین اور فصلوں کے درمیان پھنس گیا ہوں۔ اب میں ایک مایوس کُن زندگی گزار رہا ہوں۔‘

یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے۔

قرب و جوار کے 30 دیہات سے لوگ اور مویشی اِن ٹاٹ کی ترپالوں اور گھانس پُھونس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور انھیں رفع حاجت کے لیے کُھلی جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔

تنگ اور کچی سڑکوں پر کھاد، چارے اور پلاسٹک کے ٹینکوں کی قطاریں لگی ہیں۔ کسان اپنی بھینسوں کے دودھ دوہنے اور پھر انھیں قریبی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے لیے صبح سویرے جاگتے ہیں۔ واپس آنے کے بعد وہ اپنے مویشیوں کو نہلاتے اور اُنھیں چارا دیتے ہیں۔

’شراب خانہ‘

جھلساتی گرمی اور بے مقصد شام، چارپائیوں پہ سر پر پگڑی باندھے اونگھتے ہوئے بزرگ، گائیں جگالی کر رہی ہیں، ایک جانب نوجوان ٹیلی وژن سیٹ کے گرد جمع ہیں، اور بوریت کا شکار بچوں نے مویشیوں کےخیمے کے باہر ازراہِ مذاق تحریر کر رکھا ہے ’شراب خانہ۔‘

جب رات کی تاریکی پھیلتی ہے تو یہاں کے مکین کھانے کی تیاری میں لگ جاتے ہیں، ایک جانب وہ مچھروں سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو دوسری جانب انھیں سانپوں اور بچھوؤں پر بھی نظر رکھنا پڑتی ہے۔

پہاڑیوں سے گھری 40 ایکڑ رقبے پر محیط اس خیمہ بستی میں 4309 مویشی اور ایک گھوڑا رہتے ہیں۔ اس واحد گھوڑے کے مالک ایک کاشت کار ہیں جو اچھے دنوں میں شادیوں میں اپنا گھوڑا کرائے پر دیا کرتے تھے۔

یہاں مقیم خاندانوں کے پاس پیسے نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس خیمہ بستی کے منتظمین نے رنگین سائبان تلے 40 مقامی جوڑوں کی اجتماعی شادی کا انتظام کیا تھا۔ اس موقعے پر ایک چھوٹی سی دعوت کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جبکہ نو بیاہتا جوڑوں کو تحفتاً سٹیل کی الماریاں دی گئی تھیں۔

Image caption بہت سے خاندان اپنے مویشیوں سمیت عارضی کیمپوں میں منتقل ہو گئے ہیں

مویشیوں کی اس پناہ گاہ کو 40 کلومیٹر دور سے بذریعہ ٹرک اور ٹینکر روزانہ 70 ٹن چارا اور دو لاکھ لیٹر پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم نقل مکانی اور محرومی کی یہ سخت زندگی ان خیموں کے رہائشیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

22 سالہ وجے بگلانی نے تین سال تک کالج میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ اُن دنوں نوکری کے لیے امتحان کی تیاری کر رہے تھے جب گذشتہ سال خشک سالی نے انھیں اپنے خاندان کے دس مویشیوں کے ساتھ ان خیموں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ دو سال قبل والد کی وفات اور دونوں بہنوں کی شادی کے باعث وہ اکیلے ہی ان مویشیوں کی دیکھ بھال پر مجبور ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ چار سالوں میں ان کے پانچ ایکڑ رقبے پر محیط کھیتوں میں کچھ بھی نہیں اُگا۔

وہ بتاتے ہیں: ’میں سرکاری نوکری اور ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ایک پُرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ اس کے بجائے میں اس گندگی میں ہوں، اور اپنے امتحانات بھی نہیں دے پا رہا۔ جب بارش ہوگی تبھی میں واپس گھر جا سکوں گا۔ پھر میں اپنے مویشی بیچ دوں گا اور شہر میں نوکری کی تیاری کروں گا۔ یہ کاشت کاری والی زندگی اس قابل نہیں ہے۔‘

کئی کاشت کاروں کی جانب سے انھی جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

خشک دریا

بیڑ کی آبادی 27 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ یہاں آٹھ لاکھ 30 ہزار مویشی ہیں۔ ضلعے کے 1403 دیہات میں سے نصف کو لگاتار تیسرے سال بھی شدید خشک سالی کا سامنا ہے، جبکہ زیادہ تر کاشت کاروں کا انحصار بارشوں پر ہے۔

پانی کا اصل ذریعہ منجیرا دریا ہے جو گذشتہ سال خشک ہو گیا تھا۔ 148 تالابوں اور چھوٹے ڈیموں میں سے 60 فیصد سے زائد خشک پڑے ہیں۔ ضلعے کے پانی کے تقریباً سات سو ذخیروں میں سے محض تین سو میں ابھی بھی کچھ پانی موجود ہے، جبکہ تقریباً 850 ٹینکر نجی کنووں سے خشک سالی کے شکار تمام دیہات میں پانی پہنچا رہے ہیں۔

Image caption پلوان کیمپ میں قرب و جوار کے 30 سے زائد دیہات کے کسانوں نے پناہ لے رکھی ہے

ان علاقوں میں کپاس اور سویابین کی کاشت ختم ہوگئی ہے جبکہ چارا اور پانی بھی دستیاب نہیں ہیں۔

گذشتہ سال حالات سے تنگ آ کر تین سو کسانوں نے خودکشی کر لی تھی۔ رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران 45 کاشت کار خودکشی کر چکے ہیں۔ جو زندہ ہیں وہ یا تو مویشیوں کے باڑوں کا رخ کر رہے ہیں یا پھر اپنے کھیت چھوڑ رہے ہیں۔

خشک سالی کا شکار مہاراشٹر کے کئی افراد گنّے کی کاشت کے لیے زیرزمین پانی کی فراہمی کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ خیال رہے کہ گنّے کی فصل ریاست کی کل کاشت کا چار فیصد ہے جبکہ آب پاشی میں اس کا حصہ دو تہائی ہے۔

بیڑ کے سینیئر ترین اہلکار نوال کشور رام کہتے ہیں: ’صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ ہم اس سال بہت اچھے مون سون کے موسم کی دعائیں کر رہے ہیں۔ جون کے پہلے ہفتے تک ہمیں معلوم جائے گا۔‘

24 گھنٹے پانی کی فراہمی پر نظر رکھنے کے لیے نوال کشور رام نے ’وار روم‘ قائم کیا ہوا ہے۔

Image caption ہرشا وردھن کے پاس کوئی زمین نہیں تھی۔ انھوں نے چند مویشی خریدے اور کیمپ میں آ گئیں

اچھا موقع

دوسری جانب ان خیمہ بستیوں میں چند افراد اس بحران کو اپنے لیے ایک اچھے موقعے میں تبدیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ہرشا وردھن وگمار ایک بے زمین کاشت کار ہیں جن کا گزارا گّنے کاٹ کر ہوا کرتا تھا۔

انھوں نے قرضہ لیا، اس رقم سے 20 بکریاں خریدیں، ان بکریوں کے بدلے تین گائیں لیں اور مویشیوں کی ان پناہ گاہوں میں آگئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میرے پاس کوئی زمین نہیں ہے اس لیے میں نے گائیں خریدی ہیں تاکہ ان کا دودھ بیچ سکوں اور یہاں اپنے خاندان کے ساتھ رہوں۔‘

تاہم زیادہ تر افراد ناامیدی اور مایوسی کاشکار ہیں۔

سماجی کارکن ٹتواشل کامبلی کہتے ہیں: ’چار سال سے ہمیں قحط کا سامنا ہے۔ خشک سالی سماج اور زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے۔ اگر اس سال بارش نہ ہوئی اور اور ہم نے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات نہیں کیے تو پھر خدا ہی ہماری مدد کر سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں