81 برس میں بھی زندگیاں تبدیل کرنے کی لگن

Image caption وملا کول نے 81 سال کی عمر میں بھی کام کرنا بند نہیں کیا ہے

وملا کول سرکاری سکول میں ٹیچر تھیں اور اپنی ملازمت سے 20 سال پہلے ریٹائر ہو چکی ہیں، لیکن انھوں نے کام کرنا بند نہیں کیا ہے۔

81 سال کی عمر میں وملا کول دہلی کے غریب و نادار بچوں کو پڑھانے کا کام کرتی ہیں۔ جب وہ گلدستہ نامی سکول پہنچتی ہیں تو بچے بلند آواز میں انھیں ’گڈ مارننگ‘ کہنا نہیں بھولتے۔

ایک چھوٹے سے کمرے میں 12 طلبہ ہیں۔ ان میں 11 لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے۔ وہ فرش پر بیٹھے ہیں جبکہ دیواروں کے دھبوں کو چھپانے کے لیے رنگا رنگ پوسٹروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

تھوڑی دیر میں سب کے سب انگریزی سیکھنے لگتے ہیں۔ ’اے فار ایپریکاٹ، بی فار بلیک بیری‘۔ یہ ایسے پھل کے نام ہیں جنھیں کھانا تو دور ان سب نے دیکھا تک نہیں ہوگا۔

ایک چھوٹے لڑکے کی شرٹ بازو پر پھٹی ہوئی ہے۔ کلاس کا سب سے چھوٹا بچہ تین سال کا ہے اور وہ اپنے بڑے بھائی کو مکا مار رہا ہے۔

ان بچوں کے والدیں روزانہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں یا پھر ان کی مائیں سڑک پار کی کالونی کے گھروں میں برتن صاف کرتی ہیں یا باپ لوگوں کی گاڑیاں چلاتے ہیں۔

گلدستہ سکول میں طالب علموں کو انگریزی، سائنس، ریاضی اور ماحولیات کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سکول میں ایک کمپیوٹر بھی ہے۔ اتنا ہی نہیں بچوں کو یوگا، رقص اور جسمانی ورزش کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

Image caption ایک کلاس میں کل 12 طلبہ ہیں جن میں ایک لڑکی ہے

ایک دوسرے کمرے میں دوسری کلاس کے طالب علم ہیں۔ وملا کول ان بچوں کے کام دیکھنے کے لیے ٹھہرتی ہیں۔ وہ ایک سکول کی کاپی پر گول دائرہ بناتے ہوئے کہتی ہیں: ’ایسی غلطیوں پر محتاط ہونا چاہیے۔‘

وملا کول اپنے طالب علموں کا حوصلہ بڑھاتی رہتی ہیں۔ انھوں نے کہا: ’بہت سے سرکاری سکول کے طالب علموں کا زیاں کرتے ہیں۔ ایک تو ٹھیک سے پڑھاتے نہیں اور پھر امتحان میں فیل ہونے کو قبول نہیں کرتے۔ جس کے نتیجے میں ایسے بچے تیار ہوتے ہیں جو نہ تو ہندی میں اور نہ ہی انگریزی ایک جملہ لکھ پاتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ہم کسی کو واپس نہیں بھیجتے لیکن ہم بچے کا معیار جاننے کے لیے ان کا امتحان ضرور لیتے ہیں۔ اور اگر وہ کلاس کے امتحانات میں اچھا نہیں کرتے تو ہم انھیں واپس بھیج دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم محنت سے پڑھاتے ہیں۔‘

وملا کول کا سکول چار کمروں کی چھوٹی سی عمارت پر مشتمل ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو دھول سے بھرے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

اس کے باوجود پہلے کے مقابلے صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ دو سال پہلے یہ سکول دہلی میونسپل کارپوریشن پارک میں چلتا تھا۔

سکول کے ایک استاد نے بتایا: ’تب موسم گرما میں طالب علموں کو بہت گرمی لگتی تھی اور جاڑے میں سردی، لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

Image caption وملا کول سے تعلیم حاصل کرنے والے دو طلبہ نے وہیں تعلیم دینا شروع کیا ہے

گلدستہ سکول سنہ 1993 میں قائم ہوا اور یہ سب وملا کول اور ان کے شوہر ایچ ایم کول کی ہمت سے ممکن ہو پایا۔ مسٹر کول کا سنہ 2009 میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد سے وملا کول اکیلے اسے سنبھال رہی ہیں۔

وملا کول بتاتی ہیں: ’میں اور میرے شوہر ریٹائر ہونے کے بعد کچھ خیر کا کام کرنا چاہتے تھے، لیکن فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ کیا کریں۔‘

دونوں کو اس کا جواب دہلی کے مدن پور كھادر گاؤں کا دورہ کرنے کے دوران ملا۔ گاؤں کے کچھ بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ ان مسائل پر بات کر رہے تھے اور آس پاس چند ننگ دھڑنگ بچے دوڑ بھاگ رہے تھے۔

وملا کول بتاتی ہیں: ’ہم لوگ ان بچوں کے لیے بسکٹ وغیرہ لے کر گئے تھے۔ لیکن ایک خاتون نے کہا کہ کھانے کے لیے دینا اچھی بات ہے لیکن اگر آپ انھیں پڑھا دیں گی تو یہ اپنا کھانا خود حاصل کر لیں گے۔ یہ بات ہمارے دل میں بیٹھ گئی۔‘

اس کے بعد سکول کا خیال سامنے آیا۔ لیکن اسے عملی جامہ پہنانا بہت مشکل تھا۔ چھ ماہ تو انھیں گاؤں کے لوگوں کو سمجھانے میں لگ گئے۔ اس کے بعد جب انھوں نے سکول قائم کیا تو ان کے پاس محض پانچ طالب علم اور ایک استاد تھے۔

Image caption وملا کول کا کہنا ہے کہ اگر ایک زندگی بھی وہ بہتر بنا سکیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے

دونوں نے سکول کو اپنی ہاؤسنگ کالونی سریتا وہار میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں فوری طور پر 150 طلبا نے داخلہ کرا لیا۔

وملا کول نے کا خیال تھا کہ انھیں کالونی کے دوسرے لوگوں سے بھی مدد ملے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پہلے انھوں نے سکول کو كميونٹي سینٹر میں چلانے کی کوشش کی لیکن اس کی اجازت نہیں ملی۔

اس کے بعد انھوں نے كامپلیكس کے اندر بنے پارک میں پڑھانا شروع کیا لیکن پڑوسیوں نے بچوں کے شور و غل کی شکایت کی تو انھیں وہاں سے بھی ہٹنا پڑا۔ پہلے تو انھوں نے پڑوسیوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں ایک عورت کے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے بعد وملا کول اپنے سکول کو ایم سی ڈی پارک لے گئیں۔

دس سال تک یہ سکول پارک میں ہی چلتا رہا اس کے بعد وسندھرا سینٹر فار سوشل ایکشن نے سکول کی مدد کی اور اس کے بعد ہی سکول کرائے کے مکان میں شفٹ ہوا۔

اس سفر کے دوران کئی دکھ بھری کہانیاں بھی ہیں۔

وملا کول بتاتی ہیں: ’ایک ذہین اور باصلاحیت طالبہ تھی، لیکن اس کی ماں چاہتی تھی کہ وہ گھروں میں کام کرے تاکہ زیادہ پیسے آ سکیں۔ اس کی پڑھائی بند ہو گئی۔‘

Image caption وہ چاہتی ہیں کہ یہ بچے اپنے بچپن کو یاد کر سکیں

وملا کول سے تعلیم حاصل کرنے والے دو طالب علم اب گلدستہ سکول میں پڑھاتے ہیں، اور ان میں ایک کے پاس کمپیوٹر ڈگری بھی ہے۔ ایک اور طالب علم میکینک بن گیا ہے تو دوسرا ایک چینی ریستوران میں کام کر رہا ہے۔ جب ایک بار وملا کول وہاں کھانے گئیں تو طالب علم نے ان سے کوئی پیسہ نہیں دینے کی خواہش رکھی۔

وملا کول کہتی ہیں: ’اگر ایک بھی طالب علم کے معیارکو بہتر بنا پائی تو یہ میرے لیے کافی ہے۔ میں انھیں کچھ اچھی یادیں دینا چاہتی ہوں تاکہ وہ اسے یاد کریں۔‘

اسی بارے میں