شراب پر پابندی کے بعد ’لیلٰی‘ کی تلاش میں

Image caption شراب نوشی پر پابندی سے کچھ لوگ نا خوش ہیں

سمر بازار بہار کے گوپال گنج ضلع سے ملحق اتر پردیش کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ سمر پولیس چوکی کے بعد ہی بہار کی حد شروع ہو جاتی ہے۔

سمر پولیس چوکی سے بمشکل 20 میٹر آگے بھاگيپٹٹي میں واقع دیسی شراب کے ٹھیکے پر گزشتہ ماہ تک خوب رونق ہوا کرتی تھی۔ یہاں بہاریوں کے ساتھ یوپی والے بھی جام سے جام ٹکرانے آتے تھے کیونکہ بہار کی شراب یوپی کے مقابلے سستی تھی۔ منظر بدل چکا ہے۔ بھاگيپٹٹي کی شراب کی دکانیں بند ہو چکی ہیں اور یہاں لگا بورڈ بھی ہٹ چکا ہے۔ اب یہاں کی رونق یہاں سے 100 میٹر دور تمہوکی جانے والی سڑک پر منتقل ہو گئی ہے۔

بہار میں شراب نوشی پر پابندی کے اعلان کے بعد ہی یہاں انگریزی شراب کی دکان بھی کھل گئی ہے۔

40سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والی جھلسا دینی والی دوپہر کے بعد شام ہوتے ہی یہاں بہار کے نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکلوں اور کاروں کی بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔

اس دکان کے پیچھے دیسی شراب کے کاؤنٹر پر لوگ مسلسل آ جا رہے ہیں اور ’لیلٰی‘،’مسٹر لائم‘،’اولڈ فرینڈ‘ اور ’جھوم‘مانگ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Prashant Dayal
Image caption ریات گجرات میں بھی شراب نوشی پر پابندی ہے

آس پاس چائے پان کی دکانیں شام ڈھلتے ہی ميخانوں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ جب ميخانہ اپنے شباب پر ہوتا ہے تو یہاں پر سنائی دینے والی آوازوں میں اکثر نتیش حکومت کے جلد گر جانے کی خواہش یا پیشن گوئی ہوتی ہے۔

بہار میں شراب پر پابندی کے بعد کرشی نگر ضلع کا مچھلی نامی ریلوے سٹیشن بھی شراب پینے والوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ بہار میں شراب نوشی پر پابندی کے بعد یہاں بھی بہار سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے زیادہ تحصیل میں کام کرنے والے ملازمین، ٹھیکیدار اور پنچایت کےنمائندہ ہوتے ہیں۔ شراب کے سرور میں آنے کے بعد لوگ جی بھر کر نتیش کمار کی حکومت کو کوستے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کا کہنا تھا ’میرے پورے خاندان نے نتیش کو ووٹ دیے اور حکومت میں آنے کے بعد وہ مجھے بھول گئے اور صرف اپنی بیوی کی بات سنی۔‘

دوسرے نے کہا کہ ’ہم پر پینے کی پابندی لگانے والے کیا خود کچھ نہیں پیتے؟‘

یہ منظر صرف سمر بازار کا ہی نہیں بلکہ بہار سے ملحقہ یوپی کے ہر قصبے کی شام کا ہے۔اب بہار سرحد کے علاقوں میں نئی طرح کی چہل پہل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشی نگر ضلع میں دیسی کی 194، انگریزی کی 67 اور بیئر کی 80 دکانیں ہیں

جب بہار میں نتیش حکومت شراب نوشی پر پابندی کا اعلان کر رہی تھی تب اتر پردیش کی اکھلیش حکومت انگریزی شراب کے دام میں 25 فیصد تک کمی کر کےشراب سے ہونے والی کمائی کا ہدف 19 ہزار کروڑ طے کر رہی تھی۔ اب بہار کی سرحدوں سے لگی دکانیں اکھلیش حکومت کے اس ہدف کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔

کشی نگر ضلع میں سرکاری محکمے نے دیسی شراب کا کم از کم کوٹہ چار سے بڑھا کر چھ فیصد اور دیوریا میں نو فیصد کر دیا ہے۔ دونوں اضلاع میں سرحد پر پانچ پانچ نئی دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔

کشی نگر ضلع میں دیسی شراب کی 194، انگریزی کی 67 اور بیئر کی 80 دکانیں ہیں۔ اس میں دو درجن سے زائد دکانیں بہار سے لگنے والی سرحدوں پر ہیں۔

ان دکانوں پر شراب کی فروخت اور منافع کئی گنا زیادہ ہو گیا ہے۔

تاہم اس سے کچھ لوگ فکر مند بھی ہیں، انکا خیال ہے کہ اس طرح ریاست میں شراب نوشی پر پابندی بے معنی ہو جائے گی۔

اسی بارے میں