پٹھان کوٹ حملہ بھارتی انٹیلی جنس کی ناکامی کا نتیجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہشت گرد کس طرح اس انتہائی سکیورٹی والے ائیر بیس میں داخل ہو کر حملہ کرنے میں کامیاب رہے

انڈیا میں ایک پارلیمانی پینل نے شمالی بھارت کے پٹھان کوٹ شہر میں واقع انڈین ایئر فورس کی بیس پرحملے کو روکنے میں ناکامی کے لیے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

ایک رپورٹ میں پینل کا کہنا ہے کہ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے ادارے اور اور ایئر بیس کی سکیورٹی مضبوط نہیں تھی۔

دفاعی امور سے متعلق پارلیمان کی سٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ جنوری میں ہونے والے اس حملے میں پنجاب پولیس کا کردار بھی مشکوک ہے۔

پینل کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اس حملے سے پہلے ہی ایک الرٹ جاری کیا گیا تھا اس کے باوجود بھی دہشت گرد کس طرح اس انتہائی سکیورٹی والے ایئر بیس میں داخل ہو کر حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ پٹھان کوٹ کے ایس پی جنھیں دہشت گردوں نے اغوا کے بعد رہا کر دیا تھا ان کی جانب سے ملنے والی ٹھوس اطلاعات اور دہشت گردوں اور ان کے ہینڈلرز کے درمیان بات چیت کا پتہ لگنے کے باوجود بھی کہ وہ دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، سکیورٹی ایجنسیاں وقت پر نہ تو تیاری کر پائیں اور نہ اس حملے کا صحیح طریقے سے مقابلہ کر پائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ائر بیس میں بڑی بڑی جھاڑیوں اور پیڑوں نے دہشت گردوں کو چھپنے میں مدد کی

کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کے ساتھ سنگین مسائل ہیں۔

ایئر بیس کے دورے کے دوران پینل نے دیکھا کہ ایئر بیس کے ارد گرد کوئی سڑک نہیں ہے عمارت کے احاطے میں بڑی بڑی جھاڑیاں اور پیڑ ہیں جن سے دہشت گردوں کو چھپنے میں مدد ملی اور انہیں باہر نکالنے میں سکیورٹی فورسز کو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

پینل کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کا ہاتھ ہے اور دہشت گردوں اور پاکستان میں ان کے ہینڈلرز کے درمیان بات چیت سننے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے

رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد جس آسانی کے ساتھ پاکستان سے انڈیا میں گھسے ہیں اسے دیکھ کر یہ صاف ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد کے بغیر یہ حملہ ممکن نہیں تھا کیونکہ چار افراد اتنی آسانی کے ساتھ سرحد پر موجود پاکستانی سکیورٹی کو دھوکہ دے کر سرحد پار نہیں کر سکتے تھے۔

دو جنوری کو ہونے والے اس حملے میں سکیورٹی کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں