بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے امیر کی سزائے موت برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مطیع الرحمان نظامی سنہ 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل بھی مسترد کر دی ہے۔

یہ اپیل مسترد ہونے کے بعد مطیع الرحمان کے پاس صرف صدر سے رحم کی اپیل کی آپشن باقی بچی ہے جبکہ جماعتِ اسلامی نے عدالتی فیصلے کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر پاکستان کی تشویشبنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے امیر کو سزائے موت

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے رواں برس جنوری میں مطیع الرحمان نظامی کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم پر سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا اور انھوں نے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کی سربراہی میں چار ججوں پر مشتمل ایپلٹ ڈویژن بینچ نے منگل کو مطیع نظامی کی نظرِ ثانی کی اپیل کی سماعت مکمل کی تھی اور جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے 72 سالہ سربراہ کو جنگی جرائم کے خصوصی ٹرائبیونل نے گذشتہ برس نسل کشی، قتل، تشدد اور ریپ کے 16 الزامات کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

مطیع الرحمان کی اپیل مسترد کیے جانے کے خلاف جماعتِ اسلامی نے احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

جماعتِ اسلامی کے ترجمان کے مطابق جماعت جمعے کو یومِ دعا منائے گی جبکہ سنیچر کو احتجاجی مظاہرے اور اتوار کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ مطیع نظام سمیت اس کے اہم رہنماؤں کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مطیع الرحمان کی اپیل مسترد کیے جانے کے خلاف جماعتِ اسلامی نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

مطیع الرحمان نظامی سنہ 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ’البدر‘ نامی ملیشیا کے کمانڈر کے حیثیت میں آزدی پسند بنگالی کارکنوں کی نشاندہی کرنے اور انھیں ہلاک کرنے میں پاکستانی فوج کی اعانت کی تھی۔

سنہ 2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماؤں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی ہے جن میں سے عبدالقادر ملّا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختـ دار پر لٹکایا بھی جا چکا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

دوسری جانب برسرِ اقتدار جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔

سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں