کے ایف سی کی ’انگلیاں چاٹنے والی‘ نیل پالش

تصویر کے کاپی رائٹ KFC Hong Kong
Image caption فرائیڈ چکن کے ذائقے والی پالش فیشن ایبل رنگوں میں دستیاب ہے؟

امریکی فوڈ چین کینٹکی فرائیڈ چکن نے اپنے نعرے ’انگلیاں چاٹنے والے مرغوب‘ کھانے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ہانگ کانگ میں کھانے کے قابل نیل پالش متعارف کروائی ہے۔

فرائیڈ چکن کے ذائقے والی پالش، پرلطف اور فیشن ایبل رنگوں میں دستیاب ہے؟ یہ سننے میں اچھا دکھائی دیتا ہے۔ اور ایسا ہی ہے۔ کسی حد تک۔

یہ پالش ہمارے دفتر پہنچائی گئی جو کے ایف سی کے سرخ اور سفید رنگ کے ڈبے میں پیک تھی۔ یہ مصنوعات نصف اونس کے بوتلوں میں تھی جس پر ’اٹس فنگر لکنگ گڈ‘ کا نعرہ درج تھا۔

’ہاٹ اینڈ سپائسی‘ ذائقے کی نیل پالش ٹابسکو کی سرخ چٹنی جیسی دکھائی دیتی ہے۔

لیکن ’اوریجنل ریسیپی‘ گندے سے زیتونی رنگ کی ہے جو اشہتارات میں دکھائی جانے والے رنگ سے بالکل مختلف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KFC Hong Kong
Image caption اشتہارات میں پیش کی جانے والی مصنوعات

باریک بینی سے معائنہ کرنے سے یہ سامنے آیا کہ یہ دونوں بوتلیں چند روز قبل ہی اپنے استعمال کی معیاد پوری کر چکیں ہیں۔ سبز رنگ والے شیڈ واضح طور پر زنگ آلود ہیں۔

اس پالشوں کی تشہیر کرنے والی ایڈورٹائزنگ ایجنسی اوگلوی اینڈ ماتھر ہانگ کانگ کی ترجمان کے مطابق یہ غیرمعمولی بات نہیں ہے کیونکہ یہ خوردنی اشیا سے تیار کی گئی ہیں۔ مصالحوں کو نشاستے کے ساتھ ملایا گیا ہے، سبزیوں کی گم شامل کی گئی تاکہ وہ انگلیوں پر ایک دن یا اس سے زیادہ وقت تک چپکی رہے۔

اس میں کھانے کی اشیا کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے والے عناصر شامل نہیں چنانچہ انھیں فریج میں رکھنا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ پانچ دن میں استعمال کرنا ضروری ہے۔

ہر بوتل پر تحریر ہے کہ یہ صرف ایک ہی بار استعمال کی جاسکتی ہے کیونکہ شاید اس میں شامل عناصر خراب ہوسکتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق استعمال کی مقررہ معیاد ختم ہونے کے بعد بھی یہ نقصان دہ نہیں ہیں۔

اس کا ذائقہ ایسا ہی ہے جیسا کے ایف سی کے ہاٹ اینڈ سپائسی چکن کا ہوتا ہے۔ تاہم اس میں فرائیڈ چکن کا ذائقہ شامل نہیں تھا۔

اوریجنل ریسیپی پالش میں بھی ایسا ہی ذائقہ تھا جس میں مصالحے کے ساتھ کالی مرچ بھی تھی لیکن اس میں بھی مرغ کا ذائقہ نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بی بی سی کو موصول ہونے والی اصل مصنوعات

ان دونوں اقسام کی نیل پالش کی کے ایف سی ہانگ کانگ کی جانب سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تشہیر کی جا رہی ہے تاہم فی الحال یہ عام عوام کو دستیاب نہیں ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت ہم اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار نہیں کر رہے۔ ہم صرف ذرائع ابلاغ کو تبصروں کے لیے بھیج رہے تاکہ مارکیٹ کا ردِ عمل جان سکیں۔‘

ایک چینی سیاح 27 سالہ کرسٹل ژو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کھانے والی نیل پالش ایک اچھا خیال ہے۔ میرے خیال میں خواتین کا انگلیاں چاٹنا شائستہ عمل نہیں ہے۔‘

جبکہ ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ للی وونگ کا کہنا کہ وہ یہ ضرور آزمانا چاہیں گی۔

’یہ ایک نیا خیال ہے۔ میں نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں سنا۔۔۔ اپنی دوستوں کے ساتھ ناخنوں کا پینٹ کرنا اچھا لگے گا۔‘

اسی بارے میں