انڈیا میں آوارہ کتّے دہشت گردوں سے بڑا خطرہ؟

Image caption کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 اور 2012 کے درمیان تقریبا 50،000 مقامی لوگ کتّا کاٹنے سے متاثر ہوئے جن میں سے درجنوں لوگ اس کے وائرس سے ہلاک بھی ہوئے

مارچ کے مہینے میں ممبئی کی سول اتھارٹی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ممبئی میں سنہ 2008 میں ہونے والے حملوں اور 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں جتنے لوگ ہلاک ہوئے تھے اس سے زیادہ لوگ گذشتہ 20 برس میں شہر میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ میں ممبئی میونسپلٹی کی جانب سے داخل کردہ ایک درخواست کے مطابق سنہ 1994 سے 2015 کے درمیان کتوں کے کاٹنے سے پھیلنے والے زہریلے وائرس سے 434 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں ان دو بڑے حملوں میں 422 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ 20 برس کے دوران شہر میں تقریباً 13 لاکھ افراد کو آوارہ کتوں نے کاٹا ہے۔

لیکن جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملوں سے ہلاکتوں کا اس طرح کا موازنہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔

آوارہ کتوں سے ڈرنے اور کاٹنے کے معاملات عدالتوں میں آتے رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں اس طرح کے مقدمات کی سماعت دلچسپی کا موضوع ہے۔

Image caption انڈیا میں سنہ 2001 سے ہی کتوں کے مارنے پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود کئی ریاستوں نے ان پر قابو پانے کے لیے انہیں تلف کرنے کے مختلف طریقے اپنائے ہیں

اس کی وجوہات بڑی آسان سی ہیں۔ بھارت میں تقریبا تین کروڑ جنگلی اور آوارہ کتے ہیں اور ہر برس کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے زہریلے وائرس سے تقریباً 20 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

’گلوبل الائنس فار ریبیز کنٹرول‘ نے گذشتہ برس اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ عالمی سطح پر کتے کے کاٹنے سے جو وائرس پنپتا ہے اس سے بھارت میں 35 فیصد لوگ ہلاک ہوتے ہیں یعنی دنیا میں کتا کاٹنے سے مرنے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔

گذشتہ ماہ ہی جنوبی ریاست کیرالا میں عدالت نے حکومت کو اس شخص کو 40،000 ہزار روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس کی بیوی کو ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا جس کے بعد ان کی موت ہوگئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریاست میں تقریبا دس لاکھ آوارہ کتے ہیں اور جن 23،000 لوگوں کو کتّوں نے کاٹا ان میں سے تقریبا نصف لوگ اس زہریلے مادے سے متاثر ہوئے۔

ریاست کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 اور 2012 کے درمیان تقریبا 50،000 مقامی لوگ کتّوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے جن میں سے درجنوں لوگ اس کے وائرس سے ہلاک بھی ہوئے۔

جانوروں کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ کتوں کی آبادی پر کنٹرل کے لیے شہری انتظامیہ اور بہت سے ناراض لوگ کتوں کو مارنے کے لیے انہیں زہر دیتے، گولی مارتے اور دیگر مختلف طریقے اپناتے ہیں۔

Image caption دلی کے جن علاقوں میں ارکان پارلیمان رہتے ہیں وہاں پر کتوں کو سنبھالنے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی اس بات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے کہ آخر انہیں کیسے مینیج کیا جائے

بہت سے علاقوں میں جب لوگ کتوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان ہوتے ہیں تو انہیں مارنے یا کنٹرول کرنے کے لیے دوسروں کی مدد بھی طلب کرتے ہیں۔کئی بار اس کے لیے زہریلے انجیکشن بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

2012 میں ریاست پنجاب کے کے ایک سیاسی رہنما نے کتوں سے پریشان ہوکر ایک بیان دیا تھا جس پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔

کتے اکثر لوگوں کو کاٹنے لگے تھے جس پر انہوں نے کہا تھا کہ ایسے کتوں کو چین یا بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں چھوڑ دیا جانا چاہیے جہاں لوگ کتوں کو شوق سے کھاتے ہیں۔

دلی کے جن علاقوں میں ارکان پارلیمان رہتے ہیں وہاں پر کتوں کو سنبھالنے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی اس بات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے کہ آخر ان سے کیسے نمٹا جائے۔

انڈیا میں سنہ 2001 سے ہی کتوں کے مارنے پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود کئی ریاستوں نے ان پر قابو پانے کے لیے انہیں تلف کرنے کے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔

2008 ممبئی میں ایک بار خود عدالت نے باؤلے کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے اس حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی جگہ کتوں کی نس بندی کرنے کا حکم دیا تھا۔

لیکن ٹیکہ لگا کر ان کے وائرس کو ختم کرنے کے اس پروگرام پر صحیح طریفے سے عمل نہیں ہوا پایا۔ یہ پالیسی بھی مرکزی فنڈنگ اور نوکر شاہی کی کوتاہیوں کی نذر ہوگئی۔

بعض ریاستوں میں اس پر عمل کیا گیا ہے اور شمال مشرقی ریاست سکّم نے اس پر سب سے اچھا کام کیا جہاں تقریبا سبھی کتوں کو ٹیکہ لگ چکا ہے جس سے ریاست کے تمام کتے مہلک وائرس سے پاک ہیں۔

بھارت میں آوارہ کتوں کو غیر مہلک بنانے کے لیے سستے ٹیکوں کی ضرورت ہے اور اس پر باقاعدہ کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

دوسرے تمام طریقے اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں اور اگر اس پر کام کیا جائے تو کتے کے کاٹنے سے ہونے والی اموات سے بچا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں