رکنِ اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں طالبعلم کی ہلاکت پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption بہار میں ہلاکت کے خلاف مظاہرے میں ملزم کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار میں ایک رکنِ اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں ایک طالبعلم کی ہلاکت کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 20 سالہ راکی یادو پر الزام ہے کہ اس نے گیا شہر کے قریب ایک طالب علم کو سڑکے پر اوورٹیک کرنے کے معاملے میں گولی مار کر ہلاک کیا۔

راکی یادو کے والد بندیشوری پرساد یادو نے کہا ہے کہ جب دوسری کار میں سوار لوگوں نے ان کے بیٹے پر حملہ کیا تو اس نے اپنا دفاع کیا۔

بندیشوری یادو پر اپنے بیٹے کو فرار کروانے کا الزام ہے اور وہ اس وقت زیرِحراست ہیں۔

راکی یادو کی والدہ منورما دیوی بہار کی ریاستی قانون ساز کونسل کی رکن ہیں اور ان کا تعلق بہار میں برسر اقتدار جماعت جنتادل یونائیٹڈ سے ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ بندیشوری پرساد یادو اور منورما دیوی کے سکیورٹی گارڈ کو ’مجرمانہ سازش اور ملزم کو چھپانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی گارڈ راکی یادو کے ساتھ سفر کر رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ واقعہ سنیچر کو پیش آیا

یہ واقعہ سنیچر کی شب کو پیش آیا تھا جب ایک تاجر کا بیٹا آدیتہ سچدیو دوستوں کے ساتھ اپنی کار میں گھر واپس آ رہا تھا۔

انڈیا کے اہم اخبار دا ہندو کے مطابق آدیتہ کے دوست آیوش کمار نے کہا: ’ہم لوگ بودھ گیا (ایک سیاحتی مقام) سے واپس آ رہے تھے اور جیسے ہی ہم لوگوں نے ایس یو وی (جس گاڑی پر راکی یادو سوار تھا) سے آگے نکلے ان لوگوں نے ہوا میں فائرنگ شروع کر دی اور ہمیں رکنا پڑا۔

’اس کے بعد ان لوگوں نے ہمیں زبردستی کار سے باہر نکالا اور ہمیں پیٹنا شروع کر دیا۔ جب ہم نے بھاگنے کی کوشش کی تو کسی نے گولی چلا دی جو میرے دوست کو لگي۔‘

ایک سینيئر پولیس اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ ایم ایل سی کے بیٹے اور طلبہ کے درمیان کار کو آگے جانے کا راستہ نہ دینے پر شدید بحث و تکرار ہوئی۔

گیا کے مقامی شہریوں نے سڑک کو بلاک کر دیا ہے اور وہ سیاست داں کے بیٹے کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں