انڈیا کے ’اچھوت‘ مسلمان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مسلمان عام طور پر اچھوت سے متعلق باتیں نہیں کرتے

انڈیا میں دلتوں کے رہنما ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کہتے ہیں کہ اچھوت ہونا غلامی سے بھی بدتر ہے۔

دلت جن کو پہلے اچھوت کہا جاتا تھا، انڈیا کے سب سے بدنصیب شہریوں میں سے ہیں۔ ہندو ذات کے سخت نظام میں دلت کو سب سے کم تر سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ اچھوت پن کے معاملے پر ہندوؤں میں خاصی بحث ہوتی ہے لیکن مسلمان اس کے بارے میں کم ہی بات کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام میں ذات پات کے نظام کو مانا ہی نہیں جاتا۔

انڈیا میں 14 کروڑ کی مسلمان آبادی زیادہ تر ان مقامی لوگوں کی اولادوں پر مشتمل ہے جنھوں نے ماضی میں کسی وقت اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان میں سے زیادہ لوگوں کو ہندوؤں کی اونچی ذاتوں کے جبر سے بچنے کے لیے مذہب تبدیل کرنا پڑا تھا۔ سماجی طور پر پسماندہ مسلمانوں کے رہنما اعجاز علی کا کہنا ہے کہ موجودہ مسلمانوں کی آبادی کی 75 فیصد اکثریت مذہب تبدیل کرنے والوں کی اولاد پر مشتمل ہے۔ انھیں ’دلت مسلمان‘ کہا جاتا ہے۔

سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اور جنوبی ایشیا میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ذات پات اور اچھوت ہونا ایک حقیقت ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا: ’اور اچھوت ہونا اس برادری کا کھلا راز ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مسلمانوں کی آبادی کی 75 فیصد کی اکثریت مذہب تبدیل کرنے والوں کی اولاد پر مشتمل ہے

تحقیق کے مطابق مسلمانوں میں بھی ’ذات کے حوالے سے طہارت اور نجاست اور پاکی ناپاکی کے تصورات‘ موجود ہیں۔ علی انور کی ہی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ ہندو سماج میں دلت کو ’اسپرشیہ‘ (اچھوت) بھی کہا جاتا ہے، جب کہ مسلمان انھی کے لیے ’ارزل‘ (کمتر) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عالم کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انڈیا کی کسی بھی بڑی مسلمان تنظیم میں ایک بھی ’مسلمان دلت‘ موجود نہیں ہے اور زیادہ تر اعلیٰ عہدوں پر چار ’اونچی ذاتوں‘ سے تعلق رکھنے والے مسلمان براجمان ہیں۔

ایک اہم تحقیق میں تحقیق کاروں کے ایک گروہ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ چھوت چھات کا تصور اور نظریہ مسلمانوں میں بھی بہت شدت سے موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ ’دلت مسلمانوں‘ کو اور عیسائیوں کو ہندو دلت کی طرح مثبت کارروائی کے فوائد حاصل ہونے چاہیں

پرشانت ترویدی، سری نواس گولی، فہیم الدین اور سریندر کمار نے انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں اکتوبر 2014 سے اپریل 2015 تک 14 ضلعوں اور سات ہزار گھروں سے یہ نتائج حاصل کیے۔ انھیں معلوم ہوا کہ سکھوں سمیت ذات سے متعلق تعصبات تمام مذہبی فرقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ممکنہ طور پر صرف پارسی برادری ذات پات کے اس نظام سے دور ہے۔ پرشانت ترویدی کا کہنا ہے: ’یہ بات کہ ذات پات کے تعصبات صرف ہندو مذہب سے منسلک ہیں، ایک ایسی سوچ ہے جو حکومت اور تعلیمی ادارے نوآبادیاتی زمانے سے سوچتے آ رہے ہیں۔‘

اس لیے ان تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ’دلت مسلمانوں‘ کو اور عیسائیوں کو ہندو دلتوں کی طرح کوٹا سسٹم کے فوائد حاصل ہونے چاہییں۔

کہانی کا نتیجہ: انڈیا میں ذات پات ایک ایسا کمبل ہے جسے آپ تو چھوڑ سکتے ہیں لیکن یہ آپ کو نہیں چھوڑے گا۔

اسی بارے میں