نقل کے لیے جدید ٹیکنالوجی، دوبارہ امتحان دینے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ

تھائی لینڈ میں تقریباً 3,000 طالب علموں کو یونیورسٹی کے داخلے کا امتحان کو دوبارہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ علان امتحان کے دوران نقل کرنے کے سکینڈل کو بے نقاب کرنے کے بعد کیا گیا۔

نقل کرنے کے لیے سمارٹ واچز اور کیمرے استعمال کیے گئے۔

یہ جدید ترین سکینڈل بینکاک کے شہر میں ’رنگسٹ یونیورسٹی‘ میں ہوا۔ ہال کے باہر موجود ایک ٹیم کو اندر سے چشمے میں لگے چھوٹے کیمروں سے امتحانی پرچہ فلم کر کے بھیجا گیا ۔پھر ٹیم نے سوالوں کے جواب واپس سمارٹ واچز پر بھیجے۔

ایک طالب علم نے میڈکل سکول میں داخلہ لینے کے لیے نقل کرنے کے جرم میں 24,000 ڈالر کا جرمانہ دینے کا اعتراف کیا ہے۔

تھائی لینڈ میں میڈیکل سکول میں داخلہ لینا قدرے مشکل ہے لیکن آگے جا کر بہت مالی فوائد ہیں۔

بی بی سی کے ایشیا / پیسیفک خطے کے ایڈیٹر مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ میڈیکل سکول میں داخلہ لینا اس لیے مقبول ہے کیونکہ طبی علاج کے لیے دنیا بھر سے لوگ تھائی لینڈ ہی آتے ہیں۔

یونیورسٹی کے ناظم ارتھٹ اوریرت نے ’بینکاک پوسٹ‘ اخبار کو بتایا کہ وہ طالب علم جو اس سکینڈل میں شامل تھے ان کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے اور انھیں یونیورسٹی میں دوبارہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس سکینڈل میں شامل طالب علموں کے نام شائع نہیں کیے گئے اور یہ بھی واضح نہیں کہ کیا وہ کسی وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہیں یا نہیں۔

اوریرت نے اس سکینڈل کی تصاویر کو جن میں نقل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے چشمے اور سمارٹ واچ شامل ہیں، فیس بک پر شیئر کیا ہے۔

لوگوں نے فیس بک پر ان تصویروں کو ہزاروں بار شیئر کیا۔

تصویروں پر ایک تبصرے میں لکھا گیا ’ اگر یہ طالب علم پاس ہو جاتے تو ہمارا علاج جعلی ڈاکٹر کر رہے ہوتے۔‘

اسی بارے میں