’مغرب میں منشیات کی طلب، افغانستان میں بدعنوانی کی بڑی وجہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption افغان صدر نے کہا کہ برطانوی وزیرِ اعظم نے ان کے ملک کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ مغرب میں منشیات کی طلب ہی ان کے ملک میں بدعنوانی کے لیے بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔

اشرف غنی بدعنوانی کے خلاف ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن میں موجود ہیں۔

کانفرنس کے آغاز سے قبل انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے لیکن اسے مدد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی عناصر نے مل کر افغانستان کو دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں کی فہرست شامل کروانے میں کردار ادا کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کا یہ تبصرہ کیمرے پر نشر ہوا تھا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ افغانستان اور نائجیریا ’زبردست بدعنوان‘ ملک ہیں۔

افغان صدر نے کہا کہ برطانوی وزیرِ اعظم نے ان کے ملک کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہ ان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے کے زمانے کی بات کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’وہ ماضی کی روایت بیان کر رہے تھے۔ بہت سے افراد اور عناصر مل کر ملکوں کو بدعنوان ترین ملک بناتے ہیں۔ لیکن یہ ہمارے عوام کی خواہش نہیں ہے اور مجھے مینڈیٹ دے کر منتخب کیا گیا ہے تاکہ میں شفافیت اور احتساب لا سکوں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنا سکوں۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انھوں نے کہا کہ مغرب کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں افغانستان کی مدد کرے کیوں کہ ’بدعنوانی کے سب سے بڑے عامل منشیات کے کارٹل ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس وقت افغانستان بدعنوانی کے اشاریے میں 168 ملکوں کی فہرست میں 166ویں نمبر پر ہے، اور صرف صومالیہ اور شمالی کوریا اس سے نیچے ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اشاریوں کے تعین کے دوران اس محنت کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا جو کہ ان کے دور میں کی گئی اور جس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

اسی بارے میں