لوّ کمانڈوز: محبت کے رکھوالے

’ہمارے گاؤں کی پنچایت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب بھی ہم گاؤں جائیں گے وہ لوگ ہمیں الگ کر دیں گے اور پھر مار ڈالیں گے۔ ہم کبھی بھی اپنے گاؤں واپس نہیں جا سکیں گے۔‘

یہ بتاتے ہوئے 20 سالہ پوجا کی آواز سہمی ہوئی سی تھی۔

پوجا اور کیلاش کا تعلق راجستھان کے ایک گاؤں سے ہے۔ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے اور دونوں ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے۔ لیکن دونوں کا تعلق دو الگ ذاتوں سے ہے اس لیے سماج کو یہ رشتہ منظور نہیں۔ دونوں نے بھاگ کر شادی کر لی۔

کیلاش اور پوجا دہلی کے ایک شیلٹر ہاؤس میں گذشتہ سات ماہ سے پناہ لیے ہوئے ہیں۔ کیلاش نے بتایا کہ انھوں نے گھر والوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن گھر والوں نے انھیں ترک کر دیا ہے۔ ’ممی سے بات کی تھی۔ وہ رونے لگیں۔ انھوں نے کہا یہ تونے کیا کر دیا۔ ہماری بے عزتی کر دی۔ ہماری ساری عزت خراب کر دی۔‘

انڈیا میں ہر برس ہزاروں نوجوان ذات پات یا مذہب کے سبب محبت کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں پیار ایک سنگین جرم ہے اور یہ کبھی کبھی محبت کرنے والے جوڑوں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

لیکن پچھلے چھ برس سے ایک رضاکار تنظیم ’لوّ کمانڈوز‘ ایسے جوڑوں کی مدد کر رہی ہے۔ تنظیم کے سربراہ سنجے سچدیو کہتے ہیں: ’دل سب کے پاس ہے۔ یہ فطری ہے کہ جوانی کے دنوں میں کسی نہ کسی طرف کشش ہوتی ہے۔ ہر کوئی ڈھونڈتا ہے کہ کوئي ساتھی مل جائے۔ قدرت نے پیار کو منزل تک پہنچانے کے لیے ہمیں چھوٹا سا ذریعہ بنا دیا ہے۔‘

پوجا کہتی ہیں: ’لوّ کمانڈوز ہمارے لیے بھگوان کی طرح ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہم لوگ اب تک مر گئے ہوتے۔‘

اسی شیلٹر ہاؤس میں راجو اور کومل (فرضی نام) نے بھی پناہ لے رکھی ہے۔ یہ دونوں لکھنؤ کے قریب کے ایک گاؤں کے ہیں۔ دونوں محبت کرتے ہیں لیکن دونوں کا جرم یہ ہے کہ ان کا تعلق دو الگ مذاہب سے ہے۔

راجو نے بتایا کہ جب سے وہ فرار ہوئے ہیں اس وقت سے ان کے والدین کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ’گھر میں جو سامان تھا، جو مویشی وغیرہ تھے وہ گاؤں والوں نے لوٹ لیے ہیں۔ میرے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سات آٹھ پنچایتیں ہوئی ہیں۔ لوگوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مل گئے تو وہ مار دیں گے۔‘

سنجے سچدیو کہتے ہیں کہ معاشرہ ہی نہیں ملک کا قانون بھی اتنا پیچیدہ ہے کہ محبت کرنے والوں کو اس سے کوئی مدد نہیں مل پاتی۔ سچدیو نے بتایا کہ لوّ کمانڈوز کا تصور ’ویلنٹائنز ڈے‘ منانے سے سامنے آیا۔ ’یہ واحد ایسا تہوار ہے جو تمام مذاہب سے بالاتر ہے۔ یہ صرف نوجوانوں کا تہوار ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کی زندگی میں خلل ڈالے۔‘

لوّ کمانڈوز کے پورے ملک میں لاکھوں رضاکار ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کی کبھی انھوں نے مدد کی تھی۔گذشتہ چھ برس میں اس نے 47 ہزار سے زیادہ محبت کرنے والوں کا گھر بسانے میں مدد کی ہے۔ اس کی اپنی ویب سائٹ ہے اور 16 ٹیلیفون لائنیں ہیں جو 24گھنٹے چلتی ہیں۔ کوئی بھی پریمی جوڑا مصبیت میں ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔

تنطیم کے کارکن ان مصبیت زدہ نوجوانوں کو مشکل سے نکال کر مقامی عارضی شیلٹر تک پہنچاتے ہیں اور پھر انھیں رہائش، کھانا اور قانونی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ لوّ کمانڈوز کے اخراجات لوگوں کے چندے اور انفرادی مدد سے چلتے ہیں۔

لوّ کمانڈوز کے مرکزی دفتر میں پورے ملک سے ہر وقت مصبیت زدہ محبتی جوڑوں کے فون آتے رہتے ہیں۔ نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کے والدین ان کے محبت کے رشتوں کو قبول کریں۔

سچدیو کہتے ہیں: ’دراصل والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے ان کی ملکیت ہیں، ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔ دوسرے والدین کے ذہن میں سب سے بڑا خوف معاشرے کا ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔‘

انڈیا کی سوا ارب کی آبادی میں نصف آبادی 25 برس سے کم عمر کے لوگوں کی ہے۔ وقت کے ساتھ انڈین معاشرہ بھی کافی آگے بڑھا ہے لیکن معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اب بھی پیار و محبت کے رشتوں کو قبول نہیں کر سکا۔ لوّ کمانڈوز جیسی تنظیمیں روایتوں اور معاشرتی اقدار کے اس ٹکراؤ میں ایک مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں