ایرانی ’قبضے‘ میں جانے والی امریکی کشتی کے کمانڈر کی تنزلی

تصویر کے کاپی رائٹ Irib News
Image caption امریکی بحیرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے ایرک راش پر اعتماد نہیں رہا جو خلیج فارس میں اس واقعے کے ہونے کے وقت اس کشتی کے انچارچ تھے

امریکی بحریہ نے اپنے اس کمانڈر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے جن کی کمان میں امریکی کشتی کے ایرانی پانیوں میں داخلے کے بعد ایرانی حکام نے 10 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔

امریکی کشتی کے ایرانی علاقے میں داخلے کا واقعہ رواں برس جنوری میں پیش آیا تھا اور ان ملاحوں کی رہائی سفارتی کوششوں کے بعد عمل میں آ سکی تھی۔

بحریہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کو ایرک راش پر اعتماد نہیں رہا جو خلیج فارس میں اس واقعے کے وقت اس کشتی کے انچارچ تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بحریہ کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ ایرک کو کمانڈر کے عہدے سے ہٹا کر دیگر امور سونپے گئے ہیں۔

ایرک راش اس واقعے کے وقت امریکی بحریہ کے دس ملاحوں کی کمان کر رہے تھے۔

جنوری میں ایرانی حکام نے اپنی حدود میں کشتی کے داخلے کے بعد اس پر سوار عملے کے تمام ارکان کو حراست میں لے لیا تھا اور ان کی رہائی امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان ہونے والی سفارتی کوششوں کے بعد عمل میں آئی تھی۔

جمعرات کو امریکی بحریہ کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرک راش موثر قیادت کرنے ميں ناکام رہے جس کی وجہ سے نگرانی میں کوتاہی ہوئي، لاپرواہی برتی گئي اور یونٹ کا جو معیار ہوتا ہے وہ برقرار نہیں رہ سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ sepahnnews
Image caption جنوری میں امریکی کشتیوں پر ایران کے قبضے کا واقعہ خلیجِ فارس کے جزیرہ فارسی میں اس وقت پیش آیا تھا جب دنوں میں سے ایک کشتی میں تکنیکی خرابی ہوگئی

لیکن افسر نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کمانڈر کے عہدے سے برطرف کرنے کے بعد کونسی نئی ذمہ داری سونپی گئي ہے

رواں برس جنوری میں امریکی کشتیوں کے ایرانی علاقے میں پہنچنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب دو میں ایک کشتی خلیج فارس کے علاقے میں تربیتی مشن کے دوران خراب ہوگئی تھی۔

ایرانی حکام نے اس کشتی پر سوار نو مرد اور ایک خاتون اہلکار کو جزیرۂ فارسی پر منتقل کر دیا تھا جہاں ایرانی بحریہ کا اڈہ بھی ہے۔

اس وقت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سرحدی خلاف ورزی کا واقعہ نادانستہ طور پر پیش آیا تھا۔

ایران نے ان امریکیوں کو 15 گھنٹے کی حراست کے بعد یہ کہہ کر رہا کر دیا تھا کہ وہ اپنی اس حرکت پر معافی کے طلبگار ہیں۔

اپنے اہلکاروں کی رہائی کے بعد امریکہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گا کہ کشتی ایرانی پانیوں میں داخل کیسے ہوئی۔

اسی بارے میں