تمل ناڈو میں شراب پر پابندی کا انتخابی وعدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں پیر کو ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالےجائیں گے۔ ریاست میں کئی عشروں سے انتخابی ٹکراؤ براہ راست دو جماعتوں کےدرمیان رہا ہے۔

ابتدا میں کانگریس ایک بڑی پارٹی ہوا کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ریاست میں ایک چھوٹی پارٹی بن کرمحدود ہوگئی۔ گذشتہ 32 برس سے ریاست میں دو جماعتیں ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے باری باری سےاقتدار میں آتی رہی ہیں۔

اس بار بھی یہ مقابلہ بنیادی طور پر انھیں دونوں جماعتوں کے درمیان ہے، لیکن ریاست میں ایک مقبول فلمی اداکار کی نئی پارٹی اور بی جے پی کے انتخاب میں اترنے سے تمل ناڈو کےانتخابات میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔

انتخابات میں شراب بندی اور بدعنوانی دو اہم موضوعات ہیں۔ کروناندھی کی ڈی ایم کے پارٹی نے اقتدار میں آتے ہی شراب پر پابندی لگانے کا وعدہ کیا ہے جبکہ اس کی حریف وزیر اعلیٰ جیہ لیلتا کی جماعت اے آئی ڈی ایم کے نے کہا ہے کہ وہ اگر اقتدار میں دوبارہ آتی ہیں تو وہ شراب پر مرحلہ وار طریقے سے پابندی عائد کریں گی۔

ریاست میں شراب کی فروخت سے حکومت کے خزانے میں ہر برس 30 ہزار کروڑ روپے آتے ہیں۔ یہ ریاست کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 30 فیصد ہے۔

تیس ہزار کروڑ کی یہ خطیر رقم ریاست میں ہسپتالوں، سکولوں اور سڑکوں کی تعمیر اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی رہی ہے۔ شراب پر پابندی سے حکومت کی آمدنی کا ایک تہائی حصہ کم ہو جائے گا۔ کسی بھی جماعت نے یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ اس خسارے کو کیسے پورا کرے گی۔

تمل ناڈو انڈیا کی غالباً پہلی ایسی ریاست ہے جہاں انتخابات میں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے انتخابات میں رائے دہندگان کو طرح طرح کی مراعات دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سیاسی جماعتوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے سستے دام پر چاول دینے سے لے کر، ہرگھر کو ٹی وی، فریج ، مکسر اور گرائنڈر تک تقسیم کیے ہیں۔

تمل ناڈو کی سیاسی جماعتیں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مفت کا سامان تقسیم کرنےمیں پورے ملک میں سب سے آگے ہیں۔

جیہ للتا کی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آکئیں تو وہ فری موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ فراہم کریں گی۔ یہی نہیں وہ خواتین جو سکوٹر خریدنا چاہیں گی انھیں حکومت کی طرف سے 50 فیصد کی مدد بھی دی جائے گی۔

جیہ لیلتا نے ہر گھر کو سو یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ لڑکیوں کی شادی کے وقت ایک تولہ سونا دینےکا وعدہ بھی اس میں شامل ہے۔

حریف ڈے ایم کے نے ریاست کے 16 لاکھ طلبہ کو فری لیپ ٹاپ اور تھری جی اور فور جی کنکشن دینے کی بات کی ہے۔ پارٹی اگر اقتدار میں آگئی تو وہ سبھی کو مفت سمارٹ فون دے گی۔

سیاسی جماعتوں نے ہر گھر میں مفت پنکھے، مکسر، سکول یونیفارم اورسائیکلیں دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

تمل ناڈو کی سیاسی جماعتوں نے رائے دہندگان سے مفت سہولیات اور سامانوں کا جو وعدہ کیا ہے ان پر ایک اندازے کے مطابق ہر برس 30 ہزار کروڑ روپےخرچ ہوں گے۔

ایک طرف یہ اخراجات ہیں تو دوسری جانب شراب پر پابندی سے 30 ہزار کروڑ کی آمدنی بھی کم ہو جائے گی۔ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی یہ کسی سیاسی جماعت نے بتانے کی زحمت نہیں کی ہے۔

ریاست اس وقت دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مقروض ہے۔ یہ قرض گھٹنے کے بجائے ہر برس بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ریاست میں سیاسی رقابت اپنے عروج پر ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے اہم رہنماؤں پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران الیکش کمیشن نے سو کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ضبط کی ہے جو مبینہ طور پر رائے دہندگان میں تقسیم کی جانی تھی۔

دونوں جماعتیں انتخاب جیتنے کے لیے بے چین ہیں۔ اقتدار کی اس جنگ میں انھیں اس بات کی پروا نہیں ہے کہ وہ جو عوام سے وعدے کر رہی ہیں وہ کس طرح پورے کیےجائیں گے۔

عوام بھی اب ان سیاسی جماعتوں سے بیزار ہونے لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں معلوم ہے کہ یہ جیتے یا وہ جیتے کچھ تبدیل ہونے والا نہیں ہے۔

اس لیے اب انھیں جو زیادہ دے گا ووٹ وہ انھیں کو دیں گے۔ یہ سیاست شاید اب زیادہ دن نہیں چل پائے گی۔ سیاسی جماعتیں شاید اسی لیے اتنی بے چین ہیں۔

اسی بارے میں