ہم جنس پرست مدیر کا قتل، ایک مشتبہ شخص گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ذوالحاج منان کی تصویر جو ان کے خاندان والوں نے کھینچی تھی

بنگلہ دیش میں پولیس کا کہنا ہے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے سرگرم دو کارکنوں کے قتل کے شبہے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اشرف الالسلام نامی مشتبہ شخص انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے سرگرم رکن ہیں۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ذوالحاج منان اور ان کے ساتھی محبوب تونوئے کو گذشتہ ماہ ڈھاکہ میں ایک اپارٹمنٹ میں تقریباً چھ افراد نے گولیاں اور چھرے مار کر بےدردی سے قتل کر دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈھاکہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ذوالحاج منان کے قتل کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔‘

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ’گرفتار کیے جانے والے شخص اشرف الاسلام شہاب کا انصار اللہ بنگلہ ٹیم سے تعلق ہے، تاہم اس نے قتل کے الزام کو مسترد کر دیا لیکن اس کے پاس سے اس قتل میں استعمال ہونے والی پستولوں میں سے ایک پائی گئی ہے۔‘

37 سالہ اشرف الاسلام کو سنیچر کے روز مغربی قصبے کشتیہ سے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔

اس بارے میں انسداد دہشت گردی کے سربراہ منیرالسلام کا کہنا ہے کہ ’یہ گرفتاری اس کیس میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔‘

منیر الاسلام نے مزید کہا کہ ’انھوں نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں شکوک پیدا کر رہے تھے۔‘

ذوالحاج منان ’روپ بان‘ نامي جريدے کے ادارتی بورڈ ميں شامل تھے جو بنگلہ ديش ميں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے ميں پہلا رسالہ ہے۔

وہ کھلے عام ہم جنس پرست تھے لیکن ان کے خاندان والے ان کے جنسی رجحان کے متعلق بات کرنے سے ہچکچاتے تھے۔

واضح رہے امریکہ نے بھی امریکی سرکاری تنظیم یو ایس ایڈ کے لیے کام کرنے والے تونوئے اور منان کے قتل کی شدید مذمت کی تھی۔

اسی بارے میں