’امریکہ جان بوجھ کر چین کی خراب شبیہ پیش کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعوؤں سے متصادم ہے

چین نے اپنی عسکری پالیسیوں کے حوالے سے امریکی محکمۂ دفاع کی سالانہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دفاعی پالیسیوں کے حوالے سے جان بوجھ کر چین کی خراب شبیہ پیش کر رہا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے ’باہمی اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔‘

جمعے کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع پانیوں پر اپنے دعوے کو مضبوط بنانے کے لیے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے وہاں مصنوعی جزائر کی تعمیر میں تیزی لایا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین رواں برس ان جزائر پر قابلِ ذکر عسکری تعمیرات کر سکتا ہے جن میں مواصلات اور نگرانی کے نظام بھی شامل ہیں۔

چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان یانگ یوجن نے اتوار کو اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ چین سے لاحق عسکری خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے جبکہ چین کی عسکری پالیسی کی نوعیت دفاعی ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان نے امریکی رپورٹ پر شدید ’عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

یانگ یوجن کا کہنا تھا کہ امریکی رپورٹ میں نہ صرف چین میں عسکری معاملات میں عدم شفافیت اور اس سے لاحق عسکری خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے بلکہ اس میں مشرقی اور جنوبی بحیرۂ چین میں چین کی سرگرمیوں کو بھی ’غیر منصفانہ‘ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین کی قومی دفاعی پالیسی اپنی نوعیت کے اعتبار سے دفاعی ہے اور اس کی سرگرمیوں کا مقصد چین کی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کا تحفظ اور وہاں پرامن ترقیاتی سرگرمیوں کو یقینی بنانا ہے۔

Image caption چین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ امریکہ ہی ہے جو علاقے میں اپنے جنگی جہاز اور فوجی بحری جہاز بھیج کر اپنی فوجی قوت دکھاتا رہتا ہے

چین نے یہ بھی کہا ہے کہ ’یہ امریکہ ہی ہے جو علاقے میں اپنے جنگی جہاز اور فوجی بحری جہاز بھیج کر اپنی فوجی قوت دکھاتا رہتا ہے۔‘

خیال رہے کہ پینٹاگون کی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ چین کی جانب سے جنوبی بحیرۂ چین میں جاری سرگرمیوں کے نتیجے میں اسے متنازع پانیوں میں ’سول اور عسکری اڈے‘ مل سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین نے دو برس کے عرصے میں سمندر میں 3200 ایکڑ کا علاقہ حاصل کر لیا ہے اور مصنوعی جزائر کی تعمیر کا بیشتر عمل گذشتہ برس اکتوبر تک مکمل ہوگیا تھا جس کے بعد توجہ وہاں تعمیراتی سرگرمیوں پر ہے جن میں تین ہزار میٹر طویل ہوائی پٹی بھی شامل ہے جس پر جدید جنگی طیارے بھی اتر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعوؤں سے متصادم ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا سمندر میں مصنوعی جزیرے اور اس پر تعمیرات کا مقصد شہریوں کے لیے سہولیات پیدا کرنا ہے لیکن دوسرے ممالک اس کی ان کوششوں کو فوجی مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں