سیاست میں سچن جیسی اننگز کھیلنا چاہتا ہوں: سری سانت

Image caption پیر کے روز ووٹ دینے سے قبل شری سانت ایک پولنگ بوتھ پر

کرکٹ کے میدان سے سیاست کے میدان میں آنے والے سابق انڈین کرکٹر ایس سری سانت جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کے تیرووننت پورم کی سنٹرل اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار ہیں۔

سری سانت سیاست میں طویل اننگز کھیلنا چاہتے ہیں۔ ایرناکولم میں ووٹ ڈالنے کے بعد انھوں نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کی۔

انھوں نے کہا: ’جے ماتا دی، ایسا ہو جائے، جیسے سچن پاجی نےکرکٹ میں 25-20 سال کی طویل اننگز کھیلی ہے ویسی ہی یا اس سے بھی بہتر اننگز سیاست میں ہو جائے تو یہ خدا کی اور لوگوں کی مہربانی ہوگي۔

کانگریس کے وی ایس شیواكمار، جو موجودہ حکومت میں وزیر صحت ہیں اور ایل ڈی ایف کے اینٹونی راجو سے سری سانت کو سخت مقابلہ ہے۔

بی جے پی آج تک کیرالہ میں اسمبلی یا لوک سبھا انتخابات میں کسی بھی سیٹ پر کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شری سانت نے کرکٹ کے علاوہ فلموں اور ریئلٹی شو میں بھی قسمت آزمائی کی ہے

ریاست میں روایتی طور پر مقابلہ کانگریس کی قیادت والے اتحاد يو ڈی ایف اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد ایل ڈی ایف کے درمیان ہی ہوتا آیا ہے۔

ان انتخابات میں سری سانت کو ٹکٹ دے کر بی جے پی نوجوان ووٹروں کو اپنے جانب راغب کرنا چاہتی ہے۔

سری سانت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اس بار پارٹی نہ صرف ان کی سیٹ پر ہی کامیاب ہوگی بلکہ وہ کئی دوسری سیٹوں پر بھی کامیابی حاصل کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں کیرالہ میں بی جے پی کی بھی حکومت ہو گی۔

رواں ماہ پوجا بھٹ کی فلم ’کیبرے' ریلیز ہو رہی ہے، جس میں رچا چڈھا کے ساتھ سری سانت بھی نظر آئیں گے۔

اس سے قبل وہ کئی ٹی وی ریئلٹی شو میں حصہ لے چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی پی ایل میں ان پر سپاٹ فکسنگ کے الزمات لگے تھے

انتخابی مہم کے دوران سری سانت ایک ملیالم فلم کی شوٹنگ میں بھی مصروف رہے جس میں وہ لیڈ رول میں ہیں۔

سری سانت نے کہا: ’میری ترجیحات میں سیاست سرفہرست ہے کیونکہ میرے خیال سے کیرالہ کے باشندے تبدیلی کے حق دار ہیں اور وہ تبدیلی یہاں بی جے پی ہی لا سکتی ہے۔

سری سانت کے والد سنتھ كمارن بائیں بازو کی جماعت کے رہنما تھے جبکہ ان کی کزن ڈاکٹر ٹی این سیما کمیونسٹ پارٹی (مارکسی) کی جانب سے راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں رکن پارلیمان ہیں۔

بی جے پی میں شامل ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے سری سنت نے کہا: ’یہی ایک پارٹی ہے جہاں کنبہ پروری نہیں ہے، کانگریس جیسی پارٹیوں کے برخلاف یہاں کام کرنے کی صلاحیت پر مواقع دیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption ان کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے تھے

انڈین کرکٹ ٹیم میں اچھے تیز بولروں میں شمار کیے جانے والے سری سانت پر سنہ 2013 کی انڈین پریمیئر لیگ میں سپاٹ فکسنگ کے الزام لگنے کے بعد انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ نے ان کے کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی لگا دی تھی۔ بہر حال گذشتہ سال دہلی ہائی کورٹ نے انھیں فکسنگ کے تمام الزامات سے بری کر دیا۔

اسی بارے میں