تمل ناڈو کی شراب سے کیرالہ میں زندگیاں متاثر

Image caption کیرالہ کے سرحدی علاقے اٹٹاپاڑی میں خواتین نے شراب کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے

انڈیا کی جنوبی ریاستوں کیرالہ اور تمل ناڈو کی سرحد پر آباد قبائلی علاقے اٹٹاپاڑي میں ایک عرصے سے مے نوشی پر پابندی ہے۔

یہاں کی خواتین کی درخواست پر کیرالہ حکومت نے اٹٹاپاڑي میں سنہ 1995 میں شراب پر مکمل پابندی لگا دی تھی مگر اس کے باوجود علاقے میں شراب نوشی کی وبا ایسی پھیلی ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں یہاں ڈی ایڈکشن سنٹر یعنی نشہ سے نجات کے مراکز کھولنے پڑے۔

اب یہاں کی عورتیں ناراض ہیں کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا امیدوار ان کے مردوں میں بیماری کی طرح پھیلی ہوئی شراب کی لت سے نجات دلانے میں ان کی مدد نہیں کر رہا۔

اس مسئلے کی جڑ دراصل تمل ناڈو میں ہے۔ یہاں کے مرد وہاں کی دکانوں سے شراب خریدنے جاتے ہیں۔

شراب پر پابندی کی مہم چلانے والی تنظیم ’تھائی كلم سنگم‘ کی بانی اور ادارے کی موجودہ سیکریٹری ماروتھي ایم بتاتی ہیں: ’ہمارے مردوں کو شراب کی ایسی لت ہے کہ یہاں عائد پابندی سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا، سرحد پار کی شراب کی دکانیں بغیر سیاستدانوں کے دباؤ کے کس طرح بند ہوں گی؟‘

قانون کے خوف سے مرد اپنا چہرہ تو نہیں دکھانا چاہتے لیکن شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر اپنی روداد بتانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

Image caption وہاں نشے کی لت چھڑانے والے دو مراکز قائم کیے گئے ہیں

ویجو بتاتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ وہ پینے لگے۔ پابندی کبھی آڑے نہیں آئي، سب ساتھ سرحد پار کر کے تمل ناڈو میں شراب کی دکان پر جاتے اور شراب خرید لاتے۔ لت ایسی لگی کہ ترک کرنے میں دس سال لگ گئے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں روزانہ چار کوارٹر پی جاتا تھا، طبیعت بھی خراب نہیں ہوتی تھی، چھٹی کے موقعے پر تو شراب پہلے سے جمع کر لیتا تھا، اگر 400 روپے کماتا تھا تو 300 روپے شراب کی نذر ہوتے تھے۔‘

ویجو کے مطابق شراب کی عادت ایسی تھی کہ کچھ ہوش نہیں رہتا تھا، گھر میں بیوی کو مارنا معمول تھا۔ بچے، ان کی ذمہ داری، یا ان کی تعلیم اور کھانے پینے کسی بات کا احساس نہیں تھا۔

ان کے دوست پرشانت کو بھی گھر کے بکھرنے پر سب سے زیادہ ملال ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’سب نے مجھے چھوڑ دیا، تمام نفرت کرنے لگے تھے، گھر میں سب کو میں بہت برا بھلا کہتا تھا، یہ بھی نہیں سوچتا تھا کہ میرے تین بیٹے مجھے دیکھ کر کیا سیکھیں گے۔‘

ریاست میں شراب پر جزوی پابندی ہے تو اس علاقے میں مکمل پابندی کس طرح؟

Image caption موجودہ حکومت کا پورے ملک میں شراب پر مکمل پابندی کا منصوبہ ہے

ماروتھي بتاتی ہیں کہ ’پابندی کے باوجود ایک بار شراب کی بوتل کے لیے ایسی لڑائی ہوئی کہ لوگوں نے ایک لڑکے پر وہی شراب انڈیل کر اسے زندہ جلا دیا۔ اس کے بعد ہی خواتین نے ایک تنظیم بنا کر شراب پر پابندی کی مہم چلائی۔‘

یہ سنہ 2002 کی بات ہے۔ ماروتھي کہتی ہیں: ’گھر میں تو ہم تنہا اور کمزور تھے۔ کبھی مار پیٹ زیادہ ہو تو پولیس کو فون کرتی تھی، لیکن شوہر کے تشدد اور دھمکیوں سے لڑنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ سب مل کر ساتھ آواز اٹھائیں۔‘

ان کی تنظیم کی کوششوں کی بدولت سنہ 2005 میں اس وقت کے صدر جمہوریہ عبدالکلام نے یہاں آ کر اعلان کیا کہ علاقے میں پابندی پوری طرح کامیاب رہی۔

لیکن تمل ناڈو کی دکانوں کی شہ پر شراب پينے والے نہیں بدلے اور اب شراب پر پابندی والے علاقے اٹٹاپاڑي میں دو ڈی ایڈکشن سنٹر کھولنے پڑ گئے ہیں۔

وویکانند مشن کی جانب سے چلائے جانے والے ایک ڈی ایڈکشن سنٹر پہنچے تو پتہ چلا کہ وہاں روزانہ چار نئے لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔

ہر شخص کو تین ہفتوں کے لیے وہاں رکھا جاتا ہے جس میں پہلے ہفتے اچانک شراب چھوڑنے کے سائیڈ افیكٹس کے لیے دوا دی جاتی ہے۔اس کے بعد دو ہفتے تک کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔

Image caption خواتین نے تنظیم بنا کر شراب کے خلاف آواز اٹھائي

ایک ٹرینر وجے کمار بتاتے ہیں: ’ہم مرد اور عورت دونوں کو بلاتے ہیں اور ان کی فکر تبدیل کرنے کے لیے خاندانی ذمہ داریوں کے بارے میں بات چیت، شراب سے نجات کے لیے عبادت وغیرہ کا مشورہ دیتے ہیں۔‘

لیکن پروگرام کے بعد مردوں کا پھر سے شراب کی جانب مائل ہونا عام ہے۔

نسل در نسل کی اس لت کا اثر نوزائیدہ بچے کی صحت پر بھی نظر آنے لگا ہے، علاقے میں بچوں کی شرح اموات ریاست کی اوسط سے تین گنا ہے۔

اسی لیے کیرالہ حکومت کی جانب سے قبائلی فلاح و بہبود کے لیے سنہ 2015 میں جب یہاں نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا تو تمام تر توجہ کا مرکز مے نوشی تھی۔

دسمبر سنہ 2015 میں ریاست میں شراب پر جزوی پابندی لگا دی گئی۔

اس سب کے باوجود اٹٹاپاڑي میں کچھ نہیں بدلا۔ پرشانت کے مطابق اب بھی شام ڈھلنے کے بعد کسی گھر میں داخل ہوں تو دس میں سے سات نشے کی حالت میں نظر آئیں گے۔

تمل ناڈو حکومت، کیرالہ حکومت اور مرکزی حکومت کو خط لکھنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption تمل ناڈو میں موجود شراب کی دکان سے اٹاپاڑی کے لوگ شراب حاصل کرتے ہیں

آخر کار ’تھائی كلم سنگم‘ نے ہڑتال کی، راستہ روکو مہم چلائی اور پھر اپریل سنہ 2016 میں تمل ناڈو کے انناكٹٹي ضلعے کے مجسٹریٹ نے وہاں چلنے والی شراب کی وہ سرکاری دکانیں بند کیں جہاں سے اٹٹاپاڑي کے لوگ شراب خریدتے تھے۔

لیکن پھر مے نوشوں نے نیا راستہ ڈھونڈ لیا۔ اور اب وہ 15 کلومیٹر کے بجائے 40 کلومیٹر دور تمل ناڈو میں موجود ایک دوسری دکان سے شراب خریدنے لگے۔

کیرالہ کی موجودہ حکومت جو آئندہ دس برسوں میں ریاست میں مکمل شراب بند کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، شاید اٹٹاپاڑي کی عورتوں سے بات کر لے تو اچھا ہو۔

(شراب کی لت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے نوجوانوں کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں)

اسی بارے میں