سری لنکا: مٹی کے تودے گرنے سے 37 ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

سری لنکا میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مرکزی حصہ میں مسلسل بارشوں کے باعث گرنے والے مٹی کے تودے سے 37 افراد ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں۔

سری لنکا میں امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ترجمان مہیش جونی کا کہنا ہے کہ دو سو خاندانوں پر مشتمل تین دیہات مٹی کے تودے گرنے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان تینوں دیہات کے لوگوں کو وقت سے پہلے خبردار کر دیا گیا تھا اور بہت سے گھرانے عارضی کیمپوں میں منتقل ہو گئے تھے۔

ریڈ کراس کے ترجمان نے مزید کہا کہ مسلسل بارشوں سے امدادی کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ علاقے میں بھاری مشینری کو پہنچانے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں اور بیشتر لوگ ہاتھوں سے مٹی کھود کر اپنے گھریلو اشیار اور سامان نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دریں اثنا گذشتہ تین دن سے جاری بارشوں، مٹی کے تودے گرنے کے واقعات اور سیلاب کے بعد سینکڑوں لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

سری لنکا کے ہنگامی حالت میں کام کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب تک 150 افراد کو بچا لیا گیا ہے تاہم 60 سے زائد مکانات مٹی کے تودوں کے نیچے دب گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق بارش کے بعد سیلاب کے باعث تقربیاً 3,50,000 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ کیگال میں سری پورا، پالے باگے، ایلاجی پٹیا میں پیش آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کاموں میں فوج کے علاوہ مقامی افراد بھی شامل ہیں

سری لنکا میں ریڈ کراس کے مطابق مٹی کے تودے گرنے کے واقعات کے بعد سے کم از کم 200 خاندان لاپتہ ہیں۔

فوجی ترجمان بریگیڈیئر جینتھ جیاویرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ارانایکے علاقے میں جاری امدادی آپریشن میں 300 افسر تعینات کیے گئے ہیں اور گذشتہ شب تقریباً 150 افراد کو بچایا گیا ہے۔

انھوں نے کم از کم 66 مکانات کے پوری طرح تباہ ہوجانے کی نشاندہی کی۔

دریں اثنا پولیس کو بلاتھ کوہوپیٹیا سے تین مزید لاشیں ملی ہیں جبکہ ایک دوسری جگہ 16 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے اعظم امین نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بارش اور سیلاب کے سب تقریبا ساڑھے تین لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ تین دنوں سے سری لنکا میں مسلسل شدید بارش ہو رہی ہے

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش بدھ تک جاری رہے گي۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں سے امدادی آپریشن جاری ہے لیکن پولیس کے مطابق سیلاب کے سبب بہت سے راستے ناقابلِ رسائی ہیں۔

ڈی ایم سی کے مطابق تین دنوں سے جاری بارانی طوفان میں 19 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

مرنے والوں کا تعلق وٹللا، ڈیہویٹا، بیڈیگاما، ویلیگاما اور گالنیوا اضلاع سے تھا جبکہ۔ زیادہ تر ہلاکتیں بجلی کا کرنٹ لگنے اور مٹی کو تودے گرنے سے ہوئیں۔

اسی بارے میں