بھارتیہ جنتا پارٹی کی آسام میں ’غیرمعمولی‘ فتح

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کی مشرقی ریاست آسام میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں واضح اور ڈرامائی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے نتائج کے مطابق آسام کے علاوہ دیگر چار ریاستوں مغربی بنگال، تامل ناڈو، پوڈوچری اور کیرالہ میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی مقامی جماعتوں کے ہاتھوں شکست کھا گئی ہے۔

آسام میں جہاں گذشتہ 15 برس سے کانگریس کی حکومت قائم تھی وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور اب یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت قائم کرے گی۔

ان پانچ ریاستوں میں گذشتہ چھ ہفتوں کے دوران مرحلہ وار ووٹ ڈالے گئے تھے اور جمعرات کو ووٹ کی گنتی کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

بھارت میں سنہ 2014 میں ہونے والے لوک سبھا یا مرکزی اسمبلی کے انتخابات میں نریندر مودی کی قیادت میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد نریندر مودی کی سحر انگیز قیادت میں کئی اور ریاستوں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارت میں دور دراز علاقوں میں بھی ووٹنگ الٹرانک مشینوں کے ذریعے ہی ہوتی ہے

لیکن گذشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی میں عام آدٹی پارٹی سے شکست ہوئی جب کہ نریندر مودی نے بہار میں بڑے جارحانہ انداز میں انتخابی مہم چلائی لیکن وہاں بھی مرکز میں حکمران جماعت کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔

مودی کا طرز سیاست بھارت میں عام نہیں ہے جہاں مقامی یا ریاستوں کی سطح پر مقامی سطح کے رہنما انتخابی مہم چلاتے ہیں۔

ریاستی انتخابات کو عام طور پر مختلف جماعتوں کی مقبولیت کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے اور آسام میں کامیابی سے دہلی اور بہار میں ناکامیوں کے اثر کو ذائل کرنے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بڑی مدد ملے گی۔ اس فتح سے ایک اور بات ثابت ہوئی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مغربی اور شمالی ریاستوں میں اپنے مضبوط علاقوں سے باہر بھی پیر جما رہی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح کا اعلان ہوتے ہی نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ’ ہر لحاظ سے یہ ایک تاریخی اور غیر معمولی کامیابی ہے۔‘

ریاستی انتخابات میں کامیاب راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے بھی بڑی ضروری ہوتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو لوک سبھا میں عدد دی برتری حاصل ہے لیکن راجیہ سبھا میں کوئی قانون منظور کرانے کے لیے اس مطلوبہ تعداد میں ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

اقتصادی اصلاحات جن کا نریندر مودی نے گذشتہ انتخابات میں وعدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو قانون سازی کی ضرورت ہے لیکن راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل نہ ہونے کی بنا پر یہ کوئی قانونی سازی کرنے میں ناکام ہے۔

آسام کی ریاست اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں کامیابی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل کرنے میں زیادہ مدد نہیں ملے گی۔

مغربی بنگال میں ترنومل کانگریس پارٹی کی شعلہ بیان مقرر ممتا بینر جی نے انتخابی میدان مارا ہے۔ جبکہ تامل ناڈو میں آل انڈیا آنا درویدا منتر کازگم نے اکثریت حاصل کی ہے۔ بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں بائیں باوز کی جماعتوں کے اتحاد نے کانگریس کو شکست دے دی ہے۔

اسی بارے میں