کانگریس پارٹی آپریشن تھیئٹر میں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانگریس کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ان ریاستوں میں بھی آئندہ ایک ڈیڑھ سال میں الیکشن ہونے والے ہیں

اگر انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کو کچھ دیر کے لیے بھلا دیا جائے تو بھارت کے نقشے پر کانگریس پارٹی کی حکمرانی والے علاقے تلاش کرنا اب آسان کام نہیں۔

پہاڑی ریاست اتراکھنڈ، جہاں کانگریس بہ مشکل حکومت میں ہے، اور شمال مشرق کی چند ایسی چھوٹی ریاستیں جو قومی سیاست میں حاشیے پر ہی مانی جاتی ہیں، اب بھی کانگریس کا پرچم لہرا رہی ہیں۔ مجموعی طور پر کانگریس اب سوا ارب میں سے تقریباً سات کروڑ لوگوں پر حکمرانی کر رہی ہے۔

لیکن کانگریس کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ان ریاستوں میں بھی آئندہ ایک ڈیڑھ سال میں الیکشن ہونے والے ہیں۔

کانگریس ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے، اور مبصرین کے مطابق سیاسی منظرنامے سے اس کے یوں اچانک غائب ہوجانے سے علاقائی پارٹیاں اور مضبوط ہوں گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ بی جے پی کو چیلنج کرنا اور مشکل ہو جائے گا جو اب ’ہندی ہارٹ لینڈ‘ یا ’کاؤ بیلٹ‘ کی پارٹی کی شبیہ ترک کر کے ایک قومی پارٹی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption کانگریس کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ بی جے پی کے خلاف اگر کوئی محاذ قائم ہوتا ہے تو کانگریس کو اس کی قیادت ملنے کی کوئی ضمانت نہیں اور اسے ایک جونیئر پارٹنر کا رول قبول کرنا پڑ سکتا ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ علاقائی جماعتوں کے سیاسی نظریات اور ایجنڈے کہیں مختلف ہیں تو کہیں متضاد، اور ان کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آنا ناممکن تو نہیں لیکن بہت مشکل ضرور ہے۔ مختلف سیاسی نظریات کی ’کھچڑی‘ سرکاریں 1977 سے کئی مرتبہ آزمائش کے عمل سے گزر چکی ہیں لیکن کبھی ٹک نہیں سکیں۔

قومی سیاست پر اب بی جے پی کا غلبہ ہے اور اس کے مد مقابل ہیں اترپردیش میں مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو جو خود ایک دوسرے کے خلاف ہیں، بہار میں نتیش کمار اور لالو پر ساد یادو جو فی الحال ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، دہلی میں اروند کیجری وال، کیرالہ میں بائیں بازو کی جماعتیں، مغربی بنگال میں ممتا بنرجی جو بی جے پی کے خلاف مورچہ کھولنے میں پہل کر سکتی ہیں، تیلنگانہ میں کے سی چندرشیکھر اور تمل ناڈو میں جیہ للتا جو ماضی میں بی جے پی کے ساتھ بھی رہ چکی ہیں اور خلاف بھی۔

Image caption مبصرین کے مطابق کانگریس قیادت کے فقدان کا شکار ہے اور پارلیمانی انتخابات میں شکست فاش کے باوجود صورت حال کو سنبھالنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے

کانگریس کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ بی جے پی کے خلاف اگر کوئی محاذ قائم ہوتا ہے تو کانگریس کو اس کی قیادت ملنے کی کوئی ضمانت نہیں اور اسے ایک جونیئر پارٹنر کا رول قبول کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی ممکنہ بی جے پی مخالف اتحاد کی قیادت کے اب کئی مضبوط دعویدار ہیں جن میں نتیش کمار، ممتا بنرجی، ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی سر فہرست ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ رہنما کسی دوسرے کی قیادت تسلیم کرسکتے ہیں کیونکہ 2019 میں داؤ پر وزیر اعظم کی کرسی ہوگی۔

پارلیمانی جمہوریت میں مضبوط حزب اختلاف کا اہم کردار ہوتا ہے لیکن لوک سبھا میں صرف 44 سیٹوں کے ساتھ کانگریس ایک موثر اپوزیشن کا رول نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

اسی لیے کانگریس کے سینیئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے انتخابی نتائج کے بعد کہا ہے کہ پارٹی کو بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ سابق وفاقی وزیر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ تجزیوں کا وقت گزر چکا ہے، اب کچھ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عام تاثر یہ ہے کہ کانگریس کو اب ایک نئے ’اوتار‘ میں سامنے آنا ہوگا، بدعنوان اور اندرونی چپقلش کا شکار پارٹی کی امیج سے چھٹکارا پانا ہوگا

اس طرح کے بیانات کانگریس کے کلچر کے خلاف ہیں، لیکن ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کو بھی اب لگتا ہے کہ پانی سر سے گزر گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس قیادت کے فقدان کا شکار ہے اور پارلیمانی انتخابات میں شکست فاش کے باوجود صورت حال کو سنبھالنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

کئی برسوں سے یہ ذکر جاری ہے کہ راہول گاندھی پارٹی کے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے لیکن ایسا ہوتا نہیں، کانگریس کی قیادت پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ کچھ راہول گاندھی پوری ذمہ داری لینے سے جھجکتے ہیں اور کچھ سونیا گاندھی کی ’کچن کیبینٹ‘ فی الحال اقتدار کی منتقلی کو مؤخر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY

عام تاثر یہ ہے کہ کانگریس کو اب ایک نئے ’اوتار‘ میں سامنے آنا ہوگا، بدعنوان اور اندرونی چپقلش کا شکار پارٹی کی امیج سے چھٹکارا پانا ہوگا، لیکن جیسا دگ وجے سنگھ نے کہا اس کے لیے بڑی سرجری کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے وقت گزرتا جا رہا ہے۔

اگلی بڑی جنگ آئندہ برس اتر پردیش میں ہوگی، لیکن اپنے سب سے قدآور رہنماؤں کی سرزمین سے اس کے قدم پہلے ہی اکھڑ چکے ہیں۔ کانگریس کے لیے شاید یہ آخری موقع ہوگا، اس کے لیے لکھنؤ سے ایک راستہ دہلی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا تاریخ کی۔

اسی بارے میں