’ملا منصور کی ہلاکت‘، تفصیلات حاصل کر رہے ہیں: دفتر خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 50 سالہ ملا اختر منصور طالبان کے سابق امیر ملا عمر کے دور میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر فضائی حملہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق وہ ابھی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن ان کے خیال میں اس بات کا ’غالب امکان ہے کہ ملا منصور اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی کسی خبر کی تصدیق نہیں کر سکتے تاہم ’ملا اختر منصور کی ہلاکت کی اطلاعات سے متعلق تفصیلات حاصل جا رہی ہیں۔‘

ادھر افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ ملا منصور کی امریکی حملے میں ہلاکت کی خبر درست ہے۔

ملا منصور گذشتہ سال ملا عمر کی ہلاکت کی خبر آنے کے بعد جولائی 2015 میں طالبان کے امیر بنے۔ تاہم طالبان کے بعض دھڑوں نے انھیں اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

٭ افغان طالبان کی قیادت کی لیے رسہ کشی

٭ طالبان کے نئے امیر کے ساتھ چند لمحے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرکاری حکام نے ضلع نوشکی میں ایک گاڑی میں دھماکے سے دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق تو کی ہے لیکن ڈرون یا فضائی حملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ نوشکی کے علاقے مل میں پیش آیا۔

مقامی حکام کو ایک گاڑی میں دھماکے کی اطلاع ملی جب وہ وہاں پہنچے تو گاڑی بری طرح سے تباہ ہوگئی تھی اور اس میں دو افراد جل کر ہلاک ہوئے تھے

پاکستانی میڈیا کے بعض رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے جو کہ گاڑی کا ڈرائیور تھا جبکہ دوسرے شخص کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے دوسرے شخص کو ڈرائیور کوئٹہ کی جانب لارہا تھا۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اگر سرکاری حکام اس ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہیں تو یہ بلوچستان کے کسی علاقے میں پہلا ڈرون حملہ ہوگا۔

نوشکی کے ڈپٹی کمشنر شکیل خواجہ خیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’تباہ ہونے والی گاڑی سے ایک شخص کا پاسپورٹ ملا ہے۔ جس پر محمد ولی کا نام ہے اور ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی حکام کے مطابق اس حملے کی منظوری امریکی صدر براک اوباما نے دی تھی

اس سے پہلے پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے ایک بیان میں کہا کہ ملا منصور ’طالبان کے سربراہ رہے ہیں اور وہ کابل اور افغانستان بھر میں تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں فعال طریقے سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ افغان شہریوں، سکیورٹی فورسز اور ہمارے عملے کے ارکان اور اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث بنے رہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’منصور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن اور مصالحت کی راہ میں رکاوٹ رہے، اور انھوں نے طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لینے سے روک رکھا ہے۔‘

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حملے کی منظوری امریکی صدر براک اوباما نے دی تھی اور اس میں ایک اور بالغ جنگجو بھی ہلاک ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملا منصور اور یہ دوسرا شخص احمد وال کے قریب (پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے) ایک گاڑی میں جا رہے تھے کہ انھیں نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں کوئی عام شہری ہلاک نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لاشوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے

واضح رہے کہ احمد وال پاکستانی صوبے بلوچستان میں ہے اور نوشکی سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

انھوں نے کہا: ’ملا منصور اس حملے کا ہدف تھے جو امریکی سپیشل آپریشنز فورسز نے متعدد ہواباز طیاروں کی مدد سے چھ بجے صبح (دس بجے جی ایم ٹی) کیا۔‘

تاہم دوسری جانب ایک طالبان کمانڈر، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملا منصور کے قریبی ساتھی ہیں، خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ملا منصور کی ہلاکت کی خبر کی تردید کی ہے۔ انھوں نے کہا: ’ہم نے اس قسم کی بےبنیاد خبریں پہلے بھی سن رکھی ہیں، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری اطلاع کے مطابق ملا منصور ہلاک نہیں ہوئے۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اس حملے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا تھا، تاہم یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ اطلاع حملے سے قبل دی گئی تھی۔

عہدے دار نے کہا: ’منصور کی جانب سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کرنے کا یہ بہت خاص موقع تھا اور ہم نے اس پر عمل کیا۔‘

طالبان کی جانب سے ملا اختر منصور کی تقرری کو تحریک کے بعض سنیئر رہنماؤں نے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اُن کی تقرری شوریٰ کی مشاورت کے بغیر کی گئی ہے، جبکہ بعد میں ملا اختر منصور نے 30 منٹ پر مشتمل آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جنگجوؤں کو متحد رہنا چاہیے کیونکہ ’ہمارے درمیان تفریق صرف دشمنوں کو ہی خوش کر سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالبان کے بعض دھڑوں نے ملا منصور کو اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا تھا

ملا منصور کی زندگی پر ایک نظر

  • ملا اختر منصور 60 کی دہائی میں افغانستان کے صوبے قندہار میں پیدا ہوئے تھے جس کی سرحد پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ملتی ہے۔
  • ان کی عمر 50 سال کے لگ بھگ، جبکہ ان کا تعلق افغانستان کے اسحاق زئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔
  • وہ ’افغان جہاد‘ کے دوران خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ میں جلوزئی مہاجر کیمپ میں دینی مدرسے کے طالب علم بھی رہے۔
  • طالبان ذرائع کے مطابق ملا اختر منصور نے سابق سویت یونین کے خلاف ایک مختصر عرصے تک جہاد میں حصہ لیا اور اس وقت وہ افغان جہادی پارٹی حزب اسلامی افغانستان (یونس خالص) گروپ سے منسلک تھے۔
  • وہ سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب کی سوویت یونین نواز حکومت کے خلاف بھی لڑتے رہے ہیں۔
  • 90 کی دہائی کے آخر میں جب افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں تحریک طالبان کا ظہور ہوا تو ملا اختر محمد منصور نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔
  • وہ طالبان دور حکومت کے دوران سول ایوی ایشن کے وزیر اور کچھ عرصہ تک قندہار ہوائی اڈے کے انچارج بھی رہے۔
  • جب اکتوبر 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو دیگر طالبان رہنماؤں کی طرح ملا اختر منصور بھی کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے اور ایک لمبے عرصے تک غائب رہے۔
  • جب طالبان قیادت دوبارہ منظم ہوئی تو وہ بھی منظر عام پر آئے اور اس دوران وہ قندہار صوبے کے لیے طالبان کے ’شیڈو‘ گورنر کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے۔

اسی بارے میں