افغان حکام کی جانب سے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی میڈیا کے بعض رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے

افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے حوالے سے یہ سرکاری سطح پر کی جانے والی پہلی تصدیق ہے۔

ملا منصور گذشتہ سال ملا عمر کی ہلاکت کی خبر آنے کے بعد جولائی 2015 میں طالبان کے امیر بنے۔ تاہم طالبان کے بعض دھڑوں نے انھیں اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

٭ افغان طالبان کی قیادت کی لیے رسہ کشی

٭ طالبان کے نئے امیر کے ساتھ چند لمحے

اتوار کو افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بھی کہا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر فضائی حملہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق وہ ابھی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن ان کے خیال میں اس بات کا ’غالب امکان ہے کہ ملا منصور اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ابھی کسی خبر کی تصدیق نہیں کر سکتے تاہم ’ملا اختر منصور کی ہلاکت کی اطلاعات سے متعلق تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔‘

اس سے قبل پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرکاری حکام نے ضلع نوشکی میں ایک گاڑی میں دھماکے سے دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق تو کی تھی لیکن ڈرون یا فضائی حملے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ نوشکی کے علاقے مل میں پیش آیا۔

واضح رہے کہ احمد وال پاکستانی صوبے بلوچستان میں ہے اور نوشکی سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مقامی حکام کو ایک گاڑی میں دھماکے کی اطلاع ملی جب وہ وہاں پہنچے تو گاڑی بری طرح سے تباہ ہوگئی تھی اور اس میں دو افراد جل کر ہلاک ہوئے تھے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اگر سرکاری حکام اس ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہیں تو یہ بلوچستان کے کسی علاقے میں پہلا ڈرون حملہ ہوگا۔

نوشکی کے ڈپٹی کمشنر شکیل خواجہ خیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’تباہ ہونے والی گاڑی سے ایک شخص کا پاسپورٹ ملا ہے۔ جس پر محمد ولی کا نام ہے اور ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے ہے۔‘

اس سے پہلے پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے ایک بیان میں کہا کہ ملا منصور ’طالبان کے سربراہ رہے ہیں اور وہ کابل اور افغانستان بھر میں تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں فعال طریقے سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ افغان شہریوں، سکیورٹی فورسز اور ہمارے عملے کے ارکان اور اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث بنے رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 50 سالہ ملا اختر منصور طالبان کے سابق امیر ملا عمر کے دور میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’منصور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن اور مصالحت کی راہ میں رکاوٹ رہے، اور انھوں نے طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لینے سے روک رکھا ہے۔‘

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حملے کی منظوری امریکی صدر براک اوباما نے دی تھی اور اس میں ایک اور جنگجو بھی ہلاک ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملا منصور اور یہ دوسرا شخص احمد وال کے قریب (پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے) ایک گاڑی میں جا رہے تھے کہ انھیں نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں کوئی عام شہری ہلاک نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لاشوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے

انھوں نے کہا: ’ملا منصور اس حملے کا ہدف تھے جو امریکی سپیشل آپریشنز فورسز نے متعدد ڈرون طیاروں کی مدد سے چھ بجے صبح (دس بجے جی ایم ٹی) کیا۔‘

تاہم دوسری جانب ایک طالبان کمانڈر، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملا منصور کے قریبی ساتھی ہیں، خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ملا منصور کی ہلاکت کی خبر کی تردید کی ہے۔ انھوں نے کہا: ’ہم نے اس قسم کی بےبنیاد خبریں پہلے بھی سن رکھی ہیں، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری اطلاع کے مطابق ملا منصور ہلاک نہیں ہوئے۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اس حملے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا تھا، تاہم یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ اطلاع حملے سے قبل دی گئی تھی۔

عہدے دار نے کہا: ’منصور کی جانب سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کرنے کا یہ بہت خاص موقع تھا اور ہم نے اس پر عمل کیا۔‘

طالبان کی جانب سے ملا اختر منصور کی تقرری کو تحریک کے بعض سینیئر رہنماؤں نے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اُن کی تقرری شوریٰ کی مشاورت کے بغیر کی گئی ہے، جبکہ بعد میں ملا اختر منصور نے 30 منٹ پر مشتمل آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جنگجوؤں کو متحد رہنا چاہیے کیونکہ ’ہمارے درمیان تفریق صرف دشمنوں کو ہی خوش کر سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالبان کے بعض دھڑوں نے ملا منصور کو اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا تھا

ملا منصور کی زندگی پر ایک نظر

  • ملا اختر منصور 60 کی دہائی میں افغانستان کے صوبے قندہار میں پیدا ہوئے تھے جس کی سرحد پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ملتی ہے۔
  • ان کی عمر 50 سال کے لگ بھگ، جبکہ ان کا تعلق افغانستان کے اسحاق زئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔
  • وہ ’افغان جہاد‘ کے دوران خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ میں جلوزئی مہاجر کیمپ میں دینی مدرسے کے طالب علم بھی رہے۔
  • طالبان ذرائع کے مطابق ملا اختر منصور نے سابق سویت یونین کے خلاف ایک مختصر عرصے تک جہاد میں حصہ لیا اور اس وقت وہ افغان جہادی پارٹی حزب اسلامی افغانستان (یونس خالص) گروپ سے منسلک تھے۔
  • وہ سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب کی سوویت یونین نواز حکومت کے خلاف بھی لڑتے رہے ہیں۔
  • 90 کی دہائی کے آخر میں جب افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں تحریک طالبان کا ظہور ہوا تو ملا اختر محمد منصور نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔
  • وہ طالبان دور حکومت کے دوران سول ایوی ایشن کے وزیر اور کچھ عرصہ تک قندہار ہوائی اڈے کے انچارج بھی رہے۔
  • جب اکتوبر 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو دیگر طالبان رہنماؤں کی طرح ملا اختر منصور بھی کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے اور ایک لمبے عرصے تک غائب رہے۔
  • جب طالبان قیادت دوبارہ منظم ہوئی تو وہ بھی منظر عام پر آئے اور اس دوران وہ قندہار صوبے کے لیے طالبان کے ’شیڈو‘ گورنر کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے۔

اسی بارے میں