’گنگا گناہوں کا خیال رکھے گا، کچرے کا نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دنیا کے بڑے دریاؤں میں شامل دریائے گنگا آہستہ آہستہ مر رہا ہے۔

ہمالیہ کی چوٹیوں سے نکلنے اور خلیجِ بنگال میں گرنے تک اس دریا کا پانی کافی میلا اور زہریلا ہوتا جاتا ہے۔

چاہے اسے ’گنگا میّا‘ کے نام سے جانا جاتا ہو، حقیقت یہ بھی ہے کہ گنگا اپنے کنارے پر آباد تقریباً 45 کروڑ افراد کے فضلے کی بھی آماجگاہ ہے۔

اس کے کنارے بنی فیکٹریوں کا فضلہ دریا میں گرنے اور ہندو رسم و رواج کے مطابق اس کے ساحلوں پر آخری رسومات ادا کیے جانے سے بھی دریا کا پانی مسلسل آلودہ ہو رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دو سال پہلے گنگا کو صاف بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں؟ کیا گنگا کو بچایا جا سکتا ہے؟

دریائے گنگا گنگوتری سے نکلتا ہے اور اس مقام کو ہندو انتہائی مقدس جگہ مانتے ہیں۔

Image caption نریندر مودی نےگنگا کی صفائی کے مشن پر پانچ برس میں تین ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے

اس گلیشیئر کے نچلے حصے پر گومكھ ہے جو گائے کے منہ جیسا بنا ہوا ہے اور وہیں سے گنگا کا بہاؤ شروع ہوتا ہے اور یہاں دریا کا پانی انتہائی صاف شفاف ہوتا ہے۔

جیسے جیسے دریا نیچے آتا ہے، اس کی رفتار اور دائرہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور اس میں دوسرے دریاؤں اور پہاڑی نالوں کا پانی ملتا جاتا ہے۔

لیکن اب تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دریا کا پانی ہمالیہ کے پہاڑوں میں ہی تیزی سے آلودہ ہونے لگا ہے۔

جیسے جیسے آپ نیچے آتے ہیں، گنگا کی مشکلیں بڑھتی جاتی ہیں۔

رشی کیش میں سوامی چیدانند سرسوتی ’سندھیا آرتی‘ منعقد کرتے ہیں جس میں گھی کے دیے جلائے جاتے ہیں اور ساتھ میں بھجن آرتی ہوتی ہے۔

Image caption دریائے گنگا گنگوتری سے نکلتا ہے اور اس مقام کو ہندو انتہائی مقدس جگہ مانتے ہیں

سوامی کے ساتھ ان کے 50 پجاری بھی آرتی میں شامل ہوتے ہیں جسے دیکھنے کے لیے سینکڑوں عقیدت مند ہر شام جمع ہوتے ہیں۔

یہ عقیدت مند سارا دن گنگا دریا میں غسل کرتے ہیں جسے ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے۔

ہندو گنگا دریا کو دیوی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لوگ مانتے ہیں کہ گنگا میں نہانے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں۔

جب میں نے سوامی چیدانند سے گنگا کی آلودگی کی بات کی تو انھوں نے کہا کہ ’بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ گنگا نہ صرف دوسروں کے گناہ دھوتی ہے بلکہ اس میں خود کو بھی صاف رکھنے کی طاقت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ سوچتے ہیں کہ گنگا میرے گناہ دھوئےگي اور سب چیزوں کا خیال رکھے گی۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ گنگا آپ کے گناہوں کا خیال رکھے گی لیکن آپ کے کچرے کا نہیں، آپ کی آلودگی کا نہیں۔‘

Image caption سوامی چیدانند سرسوتی گنگا کو بچانے کی مہم چلا رہے ہیں

وہ گنگا دریا کی صفائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں اور انھیں ذرا بھی شک نہیں کہ یہ دریا مر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’لوگ اپنی ماں کو مار رہے ہیں‘ لیکن وہ خود اس دریا کو بچانے کے سلسلے میں پرعزم بھی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی بھی مانتے ہیں کہ گنگا کی صفائی کا کام انھیں خدا نے سونپا ہے۔

انھوں نے دو سال پہلے انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد کہا تھا، ’ماں گنگا نے مجھے بلایا ہے۔ وہ مجھے کوئی ذمہ داری سونپنا چاہتی ہیں۔ ماں گنگا مدد کے لیے چلا رہی ہیں، کہہ رہی ہیں کہ انھیں امید ہے کہ ان کا ایک بیٹا مجھے گندگی سے باہر نکالے۔ یہ ممکن ہے کہ خدا نے طے کیا ہو کہ مجھے ماں گنگا کی خدمت کرنی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیر اعظم نریندر مودی مانتے ہیں کہ گنگا کی صفائی کا کام انھیں خدا نے سونپا ہے

انھوں نے گنگا کی صفائی کے مشن پر پانچ برس میں تین ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ان سے پہلے بھی کئی ہندوستانی رہنماؤں نے ایسے اقدامات کیے ہیں۔ 1980 کی دہائی میں راجیو گاندھی نے بڑے پیمانے پر صفائی کے پروگرام منعقد کرائے تھے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنوائے تھے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوئی تھی۔

اس کے برعکس گنگا آہستہ آہستہ کہیں زیادہ آلودہ ہوتی گئی۔

اسی بارے میں