گنگا میں گندگی پھیلانے والوں کی اصل تصویر

Image caption چمڑے کے کارخانے سے دریائے گنگا میں گرنے والا آلودہ پانی

دریائے گنگا کے کنارے آباد کانپور شمالی انڈیا کا وہ شہر ہے جہاں چمڑے کی بڑی صنعت ہے اور ماحولیات کے متعلق مہم چلانے والے کارکن راکیش جیسوال کا خیال ہے کہ یہ ملک کا سب سے گندا شہر ہے۔

کانپور میں تیار ہونے والا زیادہ تر چمڑا بیرون ملک یورپ اور امریکہ کے بازاروں میں بھیجا جاتا ہے۔

٭ ’گنگا گناہوں کا خیال رکھے گا، کچرے کا نہیں‘

راکیش جیسوال گذشتہ دو دہائیوں سے اپنے شہر کانپور میں چمڑے کی صنعت میں صفائی کی مہم تنہا چلا رہے ہیں۔

ملاقات پر انھوں نے کہا: ’میرے ساتھ آئیے۔‘ اور اس کے بعد وہ ایک تنگ سی گلی میں داخل ہو گئے۔

انھوں نے گلی کے دوسرے سرے پر ایک نالہ دکھایا۔ وہ کچھ کہنے کے لیے میری طرف مڑے۔ میں نے دیکھا کہ انھوں نے اپنی ناک پر رومال رکھا ہوا ہے اور مجھے نالے سے بہتا کالا پانی دکھا رہے ہیں۔

میں کچھ سن نہیں پایا، کیونکہ میں اس نالے سے آنے والی بدبو کے سامنے بے بس تھا۔

Image caption کانپور میں چمڑے کی بڑی صنعت ہے

اس بدبو کے بارے میں تفصیل سے بتا پانا بہت مشکل ہے۔ اس میں انسانی فضلہ بھی تھا اور اس کے علاوہ بہت ساری گندگیاں تھیں۔

میری طبیعت خراب ہو رہی تھی لیکن جیسوال مجھے وہاں سے وہ جگہ دکھانے لے گئے جہاں یہ گندا نالا براہ راست گنگا میں گرتا ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ اس میں گھروں سے آنے والی گندگی کے علاوہ بہت سی خطرناک کیمیکل بھی ہیں۔

جیسوال نے بتایا کہ چمڑے کی صنعت میں چمڑے کو نرم بنانے کے لیے بہت سے زہریلے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے جن میں کرومیئم بھی ہوتا ہے، جس سے کینسر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’گنگا دریا کو صاف کرنے کے لیے بھارت کے پاس وسائل موجود ہیں۔‘ تاہم حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں ان پر عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ وزیراعظم نریندر مودی گنگا کی صفائی کی مہم پر بہت زور دے رہے ہیں؟

Image caption گنگا میں شہر کی گندگیاں بھی شامل ہوتی ہیں

انھوں نے کہا:’شاید انھیں اندازہ نہیں ہوگا کہ یہ کس قدر سنگین مسئلہ ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ انھوں نے کتنی میٹنگز کیں، کتنی کر رہے ہیں اور کتنی کریں گے۔ میں تو زمینی سطح پر تبدیلی دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

میں اس سے پہلے اتنے مستعد کارکن سے نہیں ملا تھا۔

انھوں نے بتایا: ’میرے خیال سے میں اپنی زندگی میں اس دریا کو صاف نہیں دیکھ پاؤں گا۔ گذشتہ 22 سال سے اسے آلودہ دیکھ رہا ہوں، کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔میں نے کافی کچھ کیا، حکومت نے بھی بہت کچھ کیا، لیکن کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔ میری تو ساری امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔‘

دہلی میں آبی وسائل کی وزارت کے تحت کلین گنگا مشن کے انچارج ششی شیکھر بھی جیسوال کی باتوں سے متفق نظر آئے۔

وہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے دریا میں آلودگی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کانپور میں چمڑے کے تقریباً 200 کارخانے ایسے ہیں جن کے پاس لائسنس نہیں۔

جیسوال کی طرح ششی شیکھر بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بدعنوان افسران کی ملی بھگت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

لیکن ششی شیکھر یہ کہتے ہیں کہ ’چیزیں بدل رہی ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ حکومت قوانین میں سختی لا رہی ہے۔ شیکھر کے مطابق چمڑے کی تمام فیکٹریوں کو اب اپنا کرومیئم ریکوری پلانٹ اور گندگی صاف کرنے کا پلانٹ لگانا ہوگا۔

Image caption چمڑے کا صاف کرنا بہت سہل کام نہیں ہے

شیکھر بتاتے ہیں کہ اس سختی کی وجہ سے 100 سے زیادہ کارخانے بند ہو گئے ہیں۔

کافی خوشامد کے بعد چمڑے کے کارخانوں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کے ساتھ مجھے بھی جانے کی اجازت مل گئی۔

پہلی فیکٹری میں صاف صفائی کا معقول انتظام تھا۔ مجھے شک ہونے لگا اور میں نے ان سے کہا ’کیا میری منتخ کردہ فیکٹری میں چلیں گے؟‘ غیر متوقع طور پر افسران تیار ہو گئے۔

کانپور میں چمڑے کے 400 سے زیادہ کارخانے ہیں اور میں نے اس میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ جیسے ہی سکیورٹی گارڈز نے دروازہ کھولا، مجھے محسوس ہوا کہ یہاں کچھ گڑبڑ ہے۔

کوئی چلا رہا تھا، کچھ مشین بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم تیزی سے اندر آ گئے اور جو دیکھا وہ خوفناک تھا۔

چمڑے کو صاف کرنا کوئی سہل کام نہیں۔ پہلے تو کھالوں سے گوشت کا کوئی بھی چپکا ہوا ٹکڑا علیحدہ کیا جاتا ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کئی دنوں سے یہ کام کر رہے تھے۔

مشین کے نیچے سڑا ہوا گوشت پھیلا ہوا تھا۔ ایک ملازم نے انسپکٹر کو بتایا کہ یہ ٹکڑے چار دن پرانے ہوں گے جبکہ وہاں کا درجہ حرارت تقریبا 30 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

Image caption انسانی فضلے کے علاوہ کوڑے کرکٹ اور دوسری گندگی بھی دریا میں گرتی ہے

لیکن میں لکڑی کے ایک ڈرم سے بہتے نیلے پانی کو دیکھ کر زیادہ فکرمند تھا۔ وہ اسے چھپانا چاہتے تھے۔ انسپکٹر نے بتایا کہ چمڑے کو گرم اور صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا خطرناک کیمیکل کرومیم بھی نیلا ہوتا ہے۔

تاہم وہاں کام کرنے والوں نے بتایا کہ یہ پانی عوامی نالوں میں نہیں گرتا اور فیکٹری کے اندر گندگی صاف کرنے والے پلانٹ میں جاتا ہے۔

انسپکٹر نے باہر نکلتے ہی کہا کہ میں اس کارخانے کو بند کرنے کی سفارش کروں گا۔

انسپکٹر اپنی ٹیم کے ساتھ چلے گئے، لیکن مجھے مخمصے کی حالت میں چھوڑ گئے۔

انسپکٹر اس انڈسٹری کی گندگی کو دور کرنا چاہتے ہیں، اور متحرک بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ کانپور میں ایسے کتنے کارخانے مزید ہوں گے، اور ان کا آلودہ پانی گنگا کو کتنا زہریلا بنا رہا ہوگا؟

اسی بارے میں