’امن یا سنگین نتائج‘، افغان حکومت کا طالبان رہنما کو پیغام

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کی حکومت نے افغان طالبان کے نئے رہنما مولوي ہبت اللہ اخونزادہ سے کہا ہے کہ جنگ ختم کریں یا سنگین نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔

افغان حکومت کی جانب سے یہ پیغام صدر اشرف غنی کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے ٹویٹ کے ذریعے دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AIP
Image caption مولوی ہبت اللہ امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے طالبان رہنما ملا اختر منصور کے نائب تھے

سید ظفر ہاشمی نے ٹویٹ میں کہا: ’نئی صورت حال طالبان گروہوں کے لیے پرتشدد کارروائیاں بند کرنے اور پرامن زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ہے ورنہ ان کا بھی وہی حال ہوگا جو ان کے رہنما کا ہوا ہے۔‘

٭ ملا ہبت اللہ کون ہیں؟

٭ ملا منصور کی وصیت

اس سے قبل افغانستان میں طالبان تحریک نے ایک باضابطہ بیان میں اپنے امیر ملا محمد اختر منصور کی ایک امریکی ڈرون حملے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نائب مولوي ہبت اللہ اخونزادہ کو نیا رہنما مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بدھ کو تحریک طالبان کی رہبری شوریٰ کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملا اختر منصور کی موت جنوبی افغانستان کے صوبہ قندہار کے ریگستان اور پاکستان کے صوبے بلوچستان کے نوشکی کے سرحدی علاقے میں ہوئی۔

مولوی ہبت اللہ ملا اختر منصور کے نائب تھے اور شوریٰ نے بظاہر حقانی نیٹ ورک کے سراج الحق حقانی پر انھیں ترجیح دی ہے۔

طالبان کے اعلامیے کے مطابق شوریٰ نے سراج الدین حقانی اور ملا محمد عمر کے صاحبزادے مولوی یعقوب کو ہبت اللہ کی نیابت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شب افغان طالبان کے سربراہ مولا محمد اختر منصور کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی۔

ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونرکا کہنا تھا کہ ’اس حملے کا بنیادی مقصد ایسے کسی بھی شخص کو راستے سے ہٹانا ہے جو خطے میں امریکہ اور افغان افواج کے خلاف شدت کے ساتھ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے ملا منصور کی ہلاکت کو افغانستان میں قیامِ امن کی دیرینہ کوششوں کے سلسلے میں ’اہم سنگِ میل‘ قرار دیا تھا

اسی بارے میں