’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘: ذہنی بیمار کہاں جائیں

تصویر کے کاپی رائٹ mha
Image caption حکومت ہند کے مطابق بار بار اپیل کے بعد ان افراد کا کوئی شناسا سامنے نہیں آیا ہے

اردو کے معروف فکشن نگار سعادت حسن منٹو نے اپنی کہانی ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ میں ہندوستان کی تقسیم کے سبب پیدا ہونے والے انسانی المیے کو پیش کیا تھا۔

کہانی تقسیم ہند کے بعد لاہور کے ایک ہسپتال میں ذہنی بیماریوں کے شکار لوگوں کے ارد گرد گھومتی ہے جنھیں بھارت روانہ کیا جانا ہے۔

ان دنوں ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ جیسی صورت حال ایک بار پھر پیدا ہو گئی ہے۔ کئی برسوں سے پاکستان کی جیلوں میں 17 ایسے افراد قید ہیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اہلکاروں کے مطابق وہ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔ انھیں نہ اپنے خاندان والوں کے نام یاد ہیں اور نہ ہی اپنے اپنے گھروں کے پتے۔

پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ یہ تمام ہندوستانی شہری ہیں لیکن بھارت پہلے ان کی شہریت کا تعین کرنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ mha
Image caption ان 17 قیدیوں میں چار خواتین بھی ہیں

اس کے برعکس گذشتہ سال حکومت سندھ نے کراچی سے گیتا نام کی گویائی اور سماعت سے محروم ایک لڑکی کی 15 سال کے بعد ملک واپسی دھوم دھام سے کرائی تھی۔

گیتا واپس تو آ گئي لیکن اس کے خاندان کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ وہ اس وقت مدھیہ پردیش کے ایک ہاسٹل میں حکومت کی نگہداشت میں رہ رہی ہے۔

ان 17 لوگوں میں سے تقریباً تمام ہندو یا سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت پاکستان کے مطابق یہ تمام انڈین شہری ہیں۔ پاکستان نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ان شہریوں کو واپس لے جائے۔

پاکستان نے بھارتی حکومت کو ان تمام 17 لوگوں کی تصاویر اور ان کے نام دیے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MHA
Image caption یہ افراد ذہنی طور پر معذور بتائے جاتے ہیں

لیکن بھارت میں وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق حکومت ان لوگوں کی شہریت کی پہلے شناخت کرنا چاہتی ہے۔ اگر ان کی بھارتی شہریت ثابت ہو جاتی ہے تو حکومت انھیں بھارت واپس کرنے کا انتظام کرے گی۔ ہندوستان کی حکومت نے وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر ان تمام 17 لوگوں کے نام کے ساتھ ان تصاویر شائع کی ہیں اور یہ اپیل کی ہے کہ جس کسی کو بھی ان کے بارے میں معلومات ہو وہ وزارت سے رابطہ کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ mha
Image caption انڈیا پہلے ان کی شہریت کا تعین کرنا چاہتا ہے

وزارت داخلہ کے اہلکاروں کے مطابق بار بار اپیل کے باوجود اب تک ایسا کوئی شخص سامنے نہیں آیا ہے جو ان قیدیوں کی شناخت کر سکے۔ حکام کہتے ہیں کہ انھیں ان قیدیوں سے مکمل ہمدردی ہے۔ اس معاملے پر وزارت داخلہ میں بہت میٹنگ ہوئی ہیں تاکہ کوئی راستہ نکل آئے لیکن اہلکاروں نے کہا کہ حکومت ہند کی اپنی مجبوري ہے۔ جب تک کسی کی بھارتی شہریت ثابت نہیں ہو جاتی حکومت انھیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔

پاکستانی جیلوں میں بند ان قیدیوں میں بوڑھے کم اور جوان زیادہ ہیں۔ ان میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں