ملا ہبت اللہ: ’کم جنگی تجربے کے حامل مذہبی رہنما‘

تصویر کے کاپی رائٹ AIP
Image caption ملا ہبت اللہ طالبان کی جنگی کارروائیوں کے حق میں فتوے جاری کرتے رہے ہیں

ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغان طالبان کے امیر مقرر کیے جانے والے ملا ہبت اللہ اخونزادہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان تحریک کے آغاز کے بہت بعد اس کا حصہ بنے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ ملا ہبت اللہ افغان طالبان کی 1994 میں قندہار سے شروع ہونے والی تحریک کے 33 ارکان کا حصہ نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ ملا ہبت اللہ اصل میں ایک مذہبی رہنما ہیں جن کا جنگی تجربہ کم ہے، لیکن اس وقت طالبان دھڑے بندیوں کا شکار ہیں جن کی وجہ سے ایک مذہبی رہنما کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کو اعتراض نہ ہو۔

ملا ہبت اللہ طالبان کی جنگی کارروائیوں کے حق میں فتوے جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ 2001 سے قبل افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت میں عدالتوں کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملا ہبت اللہ کو اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں طالبان کا سابق چیف جسٹس بھی کہا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ملا ہبت اللہ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ افغانستان میں ہی گزارا ہے اور ان کے بیرونِ ملک سفر کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے افغان طالبان کی مبینہ کوئٹہ شوریٰ کے ارکان سے گہرے روابط رہے ہیں۔

افغان امور کے ماہر صحافی طاہر خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملا ہبت اللہ قندہار میں ایک مدرسہ چلاتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طالبان انھیں اپنا استاد کہتے ہیں۔

ہبت اللہ کی عمر 45 سے 50 سال کے درمیان ہے اور وہ قندہار کے علاقے پنجوائی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق نور زئی قبیلے سے ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے کہ ملا ہبت اللہ صرف علامتی سربراہ ہوں گے اور اصل اختیارات ان کے نائبین یعنی ملا یعقوب اور طاقتور فوجی کمانڈر سراج الدین حقانی کے پاس ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ اپریل میں ملا یعقوب کو افغانستان کے 15 صوبوں کا فوجی کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، اس لیے توقع یہی ہے کہ طالبان کے جنگی امور کی قیادت یہی دو نائبین کریں گے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ملا ہبت اللہ سابق سربراہ ملا منصور کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات سے پہلوتہی کی راہ اختیار کریں گے۔

ماہرین کے مطابق طالبان کے تیسرے امیر ملا اپنی شوریٰ پر زیادہ انحصار کریں گے، اور ان کے فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوا کریں گے۔

ملا ہبت اللہ عالم اور مذہبی شخصیت تو مانے جاتے ہیں لیکن ان کی پہچان میدانِ جنگ نہیں رہی۔ طاہر خان کے بقول انھوں نے کم عمری کے زمانے میں روسیوں کے خلاف جنگ میں ضرور حصہ لیا، لیکن بعد میں وہ علمی سرگرمیوں سے منسلک ہو گئے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے طالبان کے شدت پسندانہ نظریات کا جواز پیش کرنے اور انھیں عوام میں قابلِ قبول بنانے کے لیے کئی فتوے جاری کیے ہیں۔

صحافی سمیع یوسف زئی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ملا ہبت اللہ کی بطور سربراہ تعیناتی سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے طالبان دوبارہ پتھر کے دور میں چلے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک روایتی دیہاتی ملا کو امیر مقرر کیا ہے جو مستقبل میں مفاہمت کے منھ پر طمانچہ ہے۔

اسی بارے میں