دہلی میں دیواروں پر لکھے اردو پیغامات مٹانے پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ FB Delhi I Love You
Image caption ان میں ایک ہندوستانی جبکہ ایک فرانسیسی فنکار ہیں

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ایک دیوار پر اردو رسم خط میں کی جانے والی پینٹنگ کو زبردستی مٹائے جانے کے واقعے نے طول پکڑ لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعض لوگوں نے دیوار پر اردو اشعار لکھنے والے دو فنکاروں کو ان کی پینٹنگز انھی سے مٹوانے اور وہاں ’سوچھ‘ یعنی صاف ستھرا بھارت مہم کا نعرہ لکھنے پر مجبور کیا۔

دہلی کے وزیر ثقافت کپل مشرا نے کہا ہے کہ وہ خود جاکر اس دیوار پر اردو میں وال پینٹنگ کروائیں گے جہاں مبینہ طور پر آر ایس ایس کارکنوں نے پینٹنگز مٹوائی تھی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کپل مشرا نے کہا: ’میں خود وہاں جاؤں گا، اردو میں پینٹنگ كرواؤں گا۔ دیکھتے ہیں کون روکنے آتا ہے۔‘

عام آدمی پارٹی کے رہنما کپل مشرا نے کہا: ’دہلی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے کٹر نظریات کو مسترد کردیا ہے اور اسی لیے یہ لوگ بوکھلائے ہوئے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے 19 مئی کو دہلی حکومت کی اجازت سے سرکاری عمارتوں کی دیواروں پر ایک غیر ملکی اور ایک ہندوستانی فنکار نے اردو اشعار کو پینٹنگز کی شکل میں پیش کرنے کی ابتدا کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اردو دہلی کی چار سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے

فنکاروں نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس سے منسلک کچھ لوگوں نے نہ صرف ان کی پینٹنگز ان سے مٹوائیں بلکہ انھیں ہندی رسم خط میں اس پر ’سوچھ بھارت مہم‘ لکھنے پر مجبور کیا۔

وزیر کپل مشرا نے کہا: ’میں اردو پینٹنگ کے ساتھ دیوار پر وہ پوسٹر بھی لگواؤں گا جو نریندر مودی نے اردو میں ٹویٹ کیا تھا۔‘

انھوں نے کہا: ’مودی اردو لکھیں تو ٹھیک اور دوسرے لوگ لکھیں تو مخالفت، یہ کون سی ثقافت ہے جو یہ لوگ دہلی میں لانا چاہتے ہیں؟‘

مشرا نے مزید کہا: ’اردو ایسی زبان ہے جو دہلی میں پیدا ہوئی اور پھر دنیا بھر میں پھیلی۔ یہ لوگ جو ہندو مذہب کی حفاظت کی بات کر رہے ہیں انھیں ہندو مذہب کا علم ہی نہیں۔ میں بھی ہندو ہوں اور میرے خیال سے میرا مذہب اتنا کمزور نہیں ہے جو اردو دیکھ کر ہی ڈر جائے۔‘

Image caption مائی دلی سٹوری کے تحت دہلی کی تہذیب و ثقافت کو بچانے کی کوشش ہے

اردو دہلی کی چار سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے اور حکومت دہلی نے ’مائی دلی سٹوری‘ کے تحت سنہ 2014 میں ایک مہم شروع کی تھی جس میں لوگوں سے دہلی کے بارے میں ان کے تاثرات ٹوئٹر پر لیے گئے تھے۔

ان میں سے 40 ٹویٹس کو منتخب کیا گیا تھا اور دوسرے مرحلے میں اب انھیں دہلی کی چار سرکاری زبانوں میں سرکاری عمارتوں پر پینٹ کیا جا رہا تھا۔

اس مہم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ دہلی کی تاریخ و ثقافت، فنون لطیفہ، ماحولیات اور کھانوں کو بچانے کی کوشش ہے۔

اسی بارے میں