گنگا کو خود صفائی کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گنگا کے گھاٹوں پر چلتے ہوئے آپ کو احساس ہوگا کہ گھاٹ کے ایک طرف تو دریائےگنگا ہے اور دوسری طرف دریا کی روانی کی طرح ایک بھاری ہجوم

بنارس میں انڈيا کی جو روش آپ کو نظر آئے گی، وہ ملک کے کسی اور شہر میں نہیں دکھائی دیتی۔

یہاں آپ کو سرکاری اشتہارات میں نظر آنے والے ’حیرت انگیز انڈیا‘ کی جھلک دکھائی دے گی۔ ہر طرف شور، افراتفری، رنگوں سے پُر اور جوش و خروش سے بھر پور انڈیا کی جھلک۔

لیکن سیاحوں کو جو چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ یہاں پر ہمہ وقت موجود رہنے والی بھیڑ بھاڑ ہے۔ یہاں ہر طرف، ہر جگہ آپ کو لوگ دکھائی دے جاتے ہیں۔ صفائی مہم کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

گنگا کے گھاٹوں پر چلتے ہوئے آپ کو احساس ہوگا کہ گھاٹ کے ایک طرف تو ہے اور دوسری طرف دریا کی روانی ہی کی طرح ایک بھاری ہجوم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہندو عقیدے کے مطابق دریائے گنگا کے کنارے آخری رسومات کرنے سے انسان کو نجات مل جاتی ہے اور اسے موت اور آواگون کے چکر سے چھٹکارا مل جاتا ہے

ان گھاٹوں پر آپ ہندو رسم و رواج کے مطابق دن رات آخری رسومات ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔

ہندو عقیدے کے مطابق دریائے گنگا کے کنارے آخری رسومات کرنے سے انسان کو نجات مل جاتی ہے اور موت اور آواگون کے چکر سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ہر سال یہاں گنگا کے گھاٹوں پر 32 ہزار لاشیں جلائی جاتی ہیں اور 300 ٹن تک ادھ جلی لاشیں دریا میں پھینک دی جاتی ہیں۔

لیکن گنگا کو آلود کرنے میں ان رسومات کا اتنا بڑا حصہ نہیں ہے جتنا لوگوں کی روزمرہ زندگی کے کام کاج۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک تخمینے کے مطابق ہر سال یہاں گنگا کی گھاٹوں پر 32 ہزار لاشیں جلائی جاتی ہیں اور 300 ٹن تک ادھ جلی لاشیں دریا میں پھینک دی جاتی ہیں

ایک اندازے کے مطابق دریائے گنگا کے کنارے آباد علاقوں میں 45 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ گنگا اس بڑی آبادی کے لیے اب بھی ایک بڑے نالے کی طرح استعمال ہوتی ہے۔

گنگا کی صفائی کے لیے پہلا ایکشن پلان 30 سال پہلے شروع ہوا تھا۔ اس میں بڑے بڑے سیویج پلانٹ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

یہ پلانٹ اب بھی موجود ہیں لیکن حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر پلانٹس یا تو اپنی صلاحیت کے حساب سے کام نہیں کر رہے، یا بالکل ہی ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک اندازے کے مطابق گنگا طاس کا 80 فیصد گندا پانی صاف نہیں کیا جاتا۔

بنارس میں گنگا پلوشن کنٹرول یونٹ کے نگران سنجے کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ ’اس کی صلاحیت ایک دن میں کل دس کروڑ لیٹر پانی صاف کرنے کی ہے، حالانکہ ہر روز 30 کروڑ لیٹر پانی صاف کرنے کی ضرورت ہے۔‘

مرکز برائے سائنس و ماحولیات کے مطابق دوسرے معاملات میں یہ اعداد و شمار بدتر ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق گنگا طاس کا 80 فیصد گندا پانی صاف نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ گنگا میں انسانی فضلے سے ہونے والی آلودگی کی سطح اس قدر بلند ہے۔

کبھی کبھی تو بنارس میں نہانے کے پانی کی جو محفوظ سطح ہونی چاہیے اس کے مقابلے میں آلودگی کی سطح ڈیڑھ سو گنا زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کی پروا کیے بغیر بڑی تعداد میں لوگ اس میں ڈبکی لگاتے ہیں۔

یہی سب سے بڑی وجہ ہے جو ہمیں پابند کرتی ہے کہ گنگا کو صاف رکھا جائے۔

اسی بارے میں