دریائےگنگا کی صفائی میں کئی برس لگ جائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جاؤڈیکر کے مطابق گنگا کی صفائی کے لیے نئے ٹریٹمنٹ پلانٹز لگائے جائیں گے اور ان میں بدعنوانی کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔ ان کے مطابق خرچ ہونے والے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا جائےگا

وزیراعظم نریندر مودی کے دریائےگنگا کو صاف کرنے کے منصوبے کو انجام تک پہنچانے کے لیے ایک علحیدہ وزارت قائم ہے لیکن اس کام میں وزارت ماحولیات کا بھی کافی اہم کردار ہے۔

وزیر ماحولیات پرکاش جاؤڈیکر کے دفتر کی عمارت انڈیا کی سب سے ہری بھری عمارتوں میں سے ایک ہے۔ کم سے کم اس وزارت کے پوسٹر تو اس کے بارے میں یہی دعویٰ کرتے ہیں۔

بنارس میں گنگا کی آلودہ گھاٹیں اور اسنان

اس عمارت کو ٹھنڈا اور گرم رکھنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کی چھت پر ایک بڑا سولر پینل نصب ہے۔

وزيراعظم مودی کلین گنگا مشن کی دیکھ بھال کے لیے قائم کمیٹی کی میٹنگ میں حصہ لیتے ہیں لیکن پرکاش جاؤڈیکر ہر دن اس پر نظر رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دریائےگنگا کی صفائی کا منصوبہ جتنے بڑے پیمانے پر تیار کیا گيا ہے اس کے سامنے دوسری دریاؤں، مثلا لندن کی دریائے ٹیمز یا رائن، کو صاف کرنے کے منصوبے کچھ بھی نہیں ہیں

دریائےگنگا کی صفائی کا منصوبہ جتنے بڑے پیمانے پر تیار کیا گيا ہے اس کے سامنے دوسری دریاؤں، مثلا لندن کی دریائے ٹیمز یا رائن، کو صاف کرنے کے منصوبے کچھ بھی نہیں ہیں۔

اس لیے میں جاننا چاہتا ہوں کہ جہاں ایک طرف گنگا کو صاف کرنے کی کئی دوسری کوششیں ناکام ہوگئیں، اس کے بعد بھی مودی حکومت کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ اس کو بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔

پرکاش جاوڈیکر مسکراتے ہوئے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں: ’کیونکہ ہم نے غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ نریندر مودی اس مشن کی قیادت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آلودگی سے متعلق سارے پہلوؤں کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے اور حکومت اسے مقررہ ’وقت کی حد کے اندر‘ پورا کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔

Image caption چمڑے بنانے والے کئی کارخانوں کو بند کرنے کی بات کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ صنعتی کاروبار سے ہونے والی آلودگی ایک تہائی حد تک کم ہو گئي ہے

وہ صنعتی کاروبار کے حوالے سے نئے قوانین کی بات بتاتے ہیں۔ وہ چمڑے بنانے والے کئی کارخانوں کو بند کرنے کی بات کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ صنعتی کاروبار سے ہونے والی آلودگی ایک تہائی حد تک کم ہو گئي ہے۔

جاؤڈیکر کے مطابق گنگا کی صفائی کے لیے نئے ٹریٹمنٹ پلانٹز لگائے جائیں گے اور ان میں بدعنوانی کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔ ان کے مطابق خرچ ہونے والے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا جائےگا۔

انھوں نے جس جوش و خروش کے ساتھ حکومت کی سکیموں کو بیان کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کیوں اس منصوبے کے تعلق سے اتنے پرجوش ہیں۔

حکومت نے اپنے لیے ایک مشکل ہدف مقرر کیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے دریا کی صفائی کے منصوبے کے لیے اچھا خاصا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔

لیکن فی الحال حکومت کے پاس اس سمت میں بڑے پیمانے پر کوشش کرنے کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں ہے۔

پرکاش جاوڈیکر کا کہنا ہے: ’ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ پانچ سال میں ہی گنگا مشن مکمل ہو جائے گا۔ لیکن پانچ سال میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ یہ ایک طویل منصوبہ ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں:’پچاس یا ساٹھ برس پہلے رائن اور ٹیمز دریاؤں کی بھی یہی حالت زار تھی۔ ان کے حالات بدلنے میں 20 برس لگ گئے۔ ہم بھی گنگا کو صاف کرنے کے مقاصد کو 10 سے 15 سالوں میں حاصل کر لیں گے۔‘

اسی بارے میں