’کچھ ممالک طالبان کی پرورش کرتے ہیں لیکن ایران نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID

ایران نے افغان طالبان کے سابق رہنما ملا منصور اختر کے ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس نے کبھی بھی طالبان کی حمایت نہیں کی ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے ایک سیمینار سے خطاب میں کہا کہ ایران دہشت گردوں کے خلاف امتیاز نہیں کرتا ہے۔

٭ ’ملا اختر ایران میں اپنے خاندان سے مل کر آ رہے تھے‘

ایرانی سفیر نے کہا کہ کچھ ممالک طالبان کی پرورش کرتے ہیں لیکن ایران کے طالبان کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی روزنامے وال سٹریٹ جرنل نے کہا تھا کہ طالبان کے رہنما کا سراغ اُس وقت لگایا گیا جب وہ ایران میں اپنے خاندان سے ملاقات کر کے پاکستان کی سرحد میں داخل ہو رہے تھے۔

ملا اختر منصور گذشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے اور اُن کی گاڑی کے ملنے والے مبینہ پاسپورٹ کے مطابق ولی محمد کے نام سے پاکستان پاسپورٹ پر وہ کئی مرتبہ ایران گئے تھے۔

پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے واضع کیا کہ ایران ملا منصور اختر جیسے کسی بھی شخص کی حمایت نہیں کرتا ہے لیکن پاکستان اور ایران کے درمیان طویل سرحد ہے اس لیے کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو سرحد امور کی نگرانی کا نظام بہتر بنانے پر غور کرنا چاہیے۔

اس سے قبل بلوچستان ہی سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کے پاس سے ملنے والی دستاویزات میں ایرانی کرنسی اور ایرانی پاسپورٹ شامل تھا۔

ایران صدر حسن روحانی کے دورۂ پاکستان کے دوران بھارتی جاسوس کی خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اپنی سر زمین کبھی بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارتی جاسوس کی گرفتاری کا معاملہ متعلقہ فورم پر اُٹھانا چاہیے تھا اور ایرانی صدر کے اہم دورے کے دوران بھارتی جاسوس کے معاملے کو اُٹھانا افسوسناک تھا۔

ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا کہ دہشت گردی سے ایران اور پاکستان دونوں ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔

بلوچستان میں گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کا کہنا تھا کہ وہ ایران سے پاکستان میں آتا جاتا رہتا تھا۔ ایرانی کے سفیر نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تجارت میں فروغ چاہتا ہے۔

مہدی ہنر دوست کا کہنا تھا کہ گوادر اور ایرانی بندگارہ میں کوئی مسابقت نہیں ہے۔ دونوں بندرگارہوں کی ترقی سے برادار ممالک میں ترقی آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہ چا بہار کو گوادر سے منسلک کرنے کے لیے تجاویز زیرِ غور ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل افغانستان ایران اور انڈیا کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تہران کے دورے کے دوران چا بہار میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ تینوں ممالک نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے ردعمل کے طور پر چا بہار کی توسیع کا منصوبہ بنایا ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ چاہ بہار علاقائی روابط کو مضبوط کرنے کا منصوبہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے پاکستان پر کبھی کسی دوسرے ملک کو ترجیح نہیں دیتا ہے لیکن بھارت نے پابندی کے دنوں میں بھی ایران سے تیل خریدا ہے۔

مہدی ہنر مند دوست کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے لیے ایران سرحد تک گیس پائپ لائن بچھانے پر دو ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور اب اس پائپ لائن کی تکمیل کے منصوبے کے لیے پاکستان کے جواب کے منتظر ہیں۔

یاد رہے کہ ایران کے صدر کی پاکستان کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان کئی اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے اور دنوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ باہمی تجارت کے حجم کو وہ پانچ ارب ڈالر تک لے کر جائیں گے۔ ماضی میں ایران نے پاکستان کو بجلی کی فراہمی کی پشکش بھی کی ہے۔

اسی بارے میں