کشمیر اسمبلی میں رائے شماری کے مشورے پر ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے کپوارہ ضلع سے تعلق رکھنے والے آزاد رکن اسمبلی انجنیئر رشید نے جمعرات کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کشمیر میں 80 فیصد ووٹنگ کا مطلب ہے کہ لوگ بھارت پر اعتماد کرتے ہیں، تو کشمیر میں رائے شماری کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

کپوارہ کے لنگیٹ حلقے کی نمائندگی کرنے والے انجنیئر رشید نے اراکین اسمبلی سے کہا ’آپ لوگ دعویٰ کرتے ہو کہ 80 فیصد ووٹنگ کا مطلب ہے لوگ بھارت پر اعتماد کرتے ہیں۔ گر آپ دل سے ہندوستانی ہو، تو آپ کو اپنے ووٹروں کو بھی ہندوستانی بنانا چاہیے۔ 80 فیصد ووٹنگ کے بعد اب آپ یہاں رائے شماری کرائیں تاکہ تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔‘

ان کے اس بیان پر ایوان میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران نے احتجاج کیا اور انجنیئر پر ملک سے غداری کا الزام بھی لگایا۔

واضح رہے کہ کشمیر کی اسمبلی میں فی الوقت جموں، کشمیر اور لداخ خطوں سے 87 ممبران منتخب ہوتے ہیں جبکہ 25 نشستوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ستاسی میں سے حکمران بی جے پی اور پی ڈی پی کے پاس 50 سے زائد سیٹیں ہیں جبکہ اپوزیشن کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے پاس بالترتیب 12 اور 15 نشستیں ہیں۔

انجنیئر رشید اُن سات آزاد امیدواروں میں سے ہیں جنھوں نے مختلف حلقوں سے انتخابات جیتے۔

انجنئیر رشید نے اپنے بیان میں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو کشمیریوں سے دغا بازی کرنے کا الزام عائد کیا۔

’چھبیس سال قبل جب یہاں سب لوگ آزادی اور پاکستان کے نعرے بلند کررہے تھے، مسلح شورش شروع ہوئی تو فاروق عبداللہ لندن چلے گئے، مفتی سعید نے حکومت ہند میں وزیر داخلہ کا قلمدان سنبھال کر کشمیر کے مشکل حالات کو قابو کیا۔‘

کشمیریوں کی سیاسی خواہشات کے حوالے سے کئی ماہ سے ہندنواز سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ لیکن انجنیئر رشید اکثر اوقات برملا کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی اکثریت پاکستان نواز ہے۔

اسی بارے میں