انیل امبانی گروپ کی دفاعی ٹھیکوں میں دلچسپی

بھارتی بحریہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption ریلائنس گروپ کے جنگی بحری جہاز اور سمندر میں تیل کی تلاش کا کام کرنے والے جہاز بنانے والی ایک کمپنی میں اکثریتی حصص ہیں

بھارت اگلے دس سال کے دوران مسلح افواج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے 250 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس ہی بنا پر بھارت کا نجی شعبہ بھی دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کے منصوبے بنا رہا ہے۔

اسی امر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھارت کے معروف صنعتکار انیل امبانی کے صنعتی گروپ ریلائنس دفاعی ٹھیکوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے متعدد منصوبوں کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

اگرچہ ریلائنس کو دفاعی ساز وسامان بنانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انیل امبانی کا صنعتی گروپ اب تک بارہ اشاریہ پانچ ارب امریکی ڈالر کے دفاعی ٹھیکوں کے لیے بولی لگا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق انیل کے کاروباری گروپ کو تاحال کوئی دفاعی ٹھیکہ نہیں مل سکا۔

سوال یہ ہے کہ ریلائنس نے دفاعی ٹھیکوں کے لیے بولی لگانے کا کیوں فیصلہ کیا؟

اس کے پیچھے مودی حکومت کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت دفاعی سامان کی ملک میں تیاری کو ترجیح دی گئی ہے۔

بھارتی حکومت جس بھی غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دی رہی ہے اس سے یہ معاہدہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مقامی کمپنی سے اشتراک کرے اور مقامی کمپنی کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ مینوفیکچرنگ کا کچھ حصہ بھی بھارت منتقل کیا جائے۔

ریلائنس ڈیفنس کے چیف ایگزیکیٹو آر کے ڈہینگرا کے مطابق ’ ہم امید کرتے ہیں کے ان ٹھیکوں میں سے ہمیں کافی حصہ ملے گا اور اگلے چند برسوں می ہماری کمپنی دفاعی شعبے میں ایک اہم نام کے طور پر ابھر کے سامنے آئے گی۔‘

بھارتی فوجی حکام کے مطابق ریلائنس ہر طرح کے دفاعی ٹھیکے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ریلائنس کے لیے دفاعی شعبے میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

’ساب انڈیا ٹیکنالوجیز‘ کے سربراہ جان وینڈر سٹورم کے بقول ’ اس کاروبار میں جلد پیسہ کمانا ممکن نہیں ہے، اس کے لیے وسیع تجربے، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور طویل مدتی کاروباری منصوبہ بندی ضروری ہے۔‘

دفاعی ویب سائٹ بھارت شکتی کے بانی نیتن گوکھیل کے مطابق ’ انیل امبانی ہر طرح کے دفاعی ٹھیکوں کی بولی لگانے کے بجائے مخصوص شعبوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔‘

ریلائنس گروپ سنہ 2005 میں انیل امبانی اور ان کے بڑے بھائی مکیش امبانی کے جھگڑے کے بعد دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔ اس جھگڑے کے بعد مکیش کے حصے میں ریلائنس انڈسٹری کے علاوہ تیل صاف کرنے والے کارخانے، ٹیکسٹائل اور پیٹروکیمیکل کے کارخانے آئے تھے۔

انیل انبانی کو ٹیلی کام، توانائی، اینٹرٹینمٹ اور فائنینشل سروس کا کاروبار ملا تھا۔ انیل کے حصے میں آنے والے کچھ شعبے مالی مشکلات کا شکار رہے۔

انیل نے دفاعی شعبے میں گذشتہ سال دلچسپی ظاہر کی تھی جب انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں جنگی بحری جہاز اور سمندر میں تیل کی تلاش کا کام کرنے والے جہاز بنانے والی ایک کمپنی میں اکثریتی حصص خریدے تھے۔ پیپاوا ڈیفنس اینڈ آف شور انجینئرنگ کمپنی میں انھوں نے 20 ارب بھارتی روپے کی سرمایہ کاری کی۔ ریلائنس نے ہزاروں ایکڑ زمین خریدی ہے جس میں وہ خلائی ٹیکنالوجی کے لیے ایک ادارہ بنانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک بہت بڑا شپ یارڈ بنانے کے لیے بھی زمین خریدی ہے۔

الائنس نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ بھی مشترکہ منصوبوں کے درجنوں معاہدے کیے ہوئے ہیں۔

دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی ایک اسرائیلی کمپنی ’ریفیل‘ کا کہنا ہے کہ اگر الائنس کو ٹھیکے مل گئے تو وہ میزائیلوں اور دیگر آلات کے کچھ پرزے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

انیل امبانی کا کہنا ہے کہ فی الوقت ان کی کمپنی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے پاس دفاعی ساز و سامان بنانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

مارچ میں ’میک ان انڈیا سمٹ‘ کے دوران امبانی نے کہا تھا کہ اعلیٰ سطح پر پر عزام اصلاح پسند ذہنیت کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ نئے کھلاڑیوں کو پنپنے کے مواقع اس لیے نہیں دیے جا رہے کہ ان کے پاس تجربہ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں