کابل کے صدارتی محل کی تعمیرِنو کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران کھنڈر بن جانے والی کابل کی سب سے پرشکوہ تاریخی عمارت صدارتی محل دارالامن کی تعمیرِنو کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

دارالحکومت کابل میں ایک پہاڑی پر یہ پروقار عمارت سنہ 1920 میں افغانستان کے سابق بادشاہ امان اللہ نے برطانوی سرکار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد تعمیر کروائی تھی۔

اس عمارت میں آگ لگنے کے بعد اس کی تعمیر نو کی گئی اور 1970 اور 1980 کی دہائی کے دوران یہ وزارتِ دفاع کے استعمال میں رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BAY ISMOYOAFPGETTY

افغانستان میں جب خانہ جنگی شروع ہوئی تو اسے باغی اپنے ہیڈ کواٹر کے طور پر استعمال کرتے رہے اور گولہ باری میں اسے شدید نقصان پہنچا۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ یہ تباہ شدہ ڈھانچہ افغانستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دور کی یاد دلاتا ہے۔

انھوں نے یہ بات اس کی تعمیر نو کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’آج وہ ماضی کی خوشگوار یادوں کو تازہ کرتے ہوئے مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔‘

اس منصوبے کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے کی مہم حکومت نے سنہ 2012 میں شروع کی تھی۔

منصوبے کا تخمینہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے لے کر دو کروڑ امریکی ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے اور اس کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

بی بی سی افغان سروس کے مدیر وحید مسعود نے کہا کہ اس منصوبے کی حکومت کے لیے ایک علامتی اہمیت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس سے حکومت کی ملک کی ثقافت اور تاریخ میں دلچسپی اور ملک کی عمومی تعمیر نو کے عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

صدارتی محل کی عمارت میں مرمت کے بعد ایک عجائب گھر کھولا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے سرکاری تقریبات کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ WAKIL KOHSARAFPGETTY

اسی بارے میں