وارانسی میں ہندو خواتین کی مسلح تربیت

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption یہاں ایئر گن چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے

انڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی انتخابی حلقے وارانسی یعنی بنارس میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) خواتین کو مسلح تربیت دے رہی ہے۔

اس سے قبل انڈیا کے معروف شہر ایودھیا میں وی ایچ پی کے تربیتی کیمپ کی ویڈیو کے سامنے آنے پر تنازع کھڑا ہو چکا ہے کیونکہ اس میں دشمن کو مسلمان دکھایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption ربیتی کیمپ میں 11 اضلاع کی تقریبا 100 لڑکیاں شامل ہیں

خیال رہے کہ وی ايچ پی نظریاتی طور پر راشٹریہ سیوک سنگھ سے منسلک تنظیم ہے۔

وارانسی سے صحافی روشن جیسوال کے مطابق گذشتہ چند دنوں سے وی ایچ پی کی خاتون یونٹ ’درگا واہنی‘ اور ’ماتر شکتی‘ کی مسلح تربیت جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption بندوق چلانے کے علاوہ کیمپ میں لاٹھی چلانے کا ہنر بھی سکھایا جا رہا ہے

اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ تربیت دہشت گردانہ حملے کے خلاف تیاری کے طور پر دی جا رہی ہے۔

وارانسی میں وی ایچ پی کے دفتر کے قریب واقع بھارتیہ شکچھا مندر نام کے سکول میں جاری تربیتی کیمپ میں 11 اضلاع کی تقریباً 100 لڑکیاں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption دیواکر کا کہنا ہے کہ ’ضرورت پڑنے پر فوج کی دوسری صف کے طور پر جہاں بجرنگ دل کھڑا ہوگا، اسی طرح درگاواہنی کی بہنیں بھی کھڑی ہوں گی‘

تربیتی کیمپ کی افسر کملا مشرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ٹریننگ کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کو خود کفیل بنانا اور دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا ہے۔‘

انھوں نے بتایا، ’خواتین کو یہ ٹریننگ اس لیے بھی دی جا رہی ہے، کیونکہ دہشت گرد خواتین کے ہاتھوں نہیں مرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد مانتے ہیں کہ عورت کے ہاتھوں مرنے کے بعد انھیں جنت نہیں ملے گی اور وہ بھاگ جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption پستول چلانے کی تربیت دینے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں

تربیت کے لیے پیشہ ور ٹرینرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے کنڈا قصبے سے آنے والی روپالي بتاتی ہیں کہ ’اس ٹریننگ کے ذریعے وہ اپنے دفاع کے ساتھ دہشت گردوں سے بھی نپٹ سکتی ہیں۔‘

ایئر گن چلانے کی ٹریننگ لینے والی مونی نے بتایا کہ وہ یہ تربیت گھر والوں کی اجازت سے لے رہی ہیں تاکہ اس کے بعد وہ اپنے گاؤں پہنچ کر اور بھی لوگوں کو سکھا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال جگہ جگہ ایسے کیمپ لگاتی ہے

کوشامبی ضلعے سے تعلق رکھنے والی سشما سونکر نے بتایا کہ ’آج جس طرح کا ماحول ہے اس کے مطابق لاٹھی بازی، کراٹے اور رائفل چلانا آنا چاہیے۔‘

ادھیڑ عمر کی بنارس کا پرتگیہ دیوی نے بتایا کہ وہ یہ ٹریننگ اپنی حفاظت خود سے کرنے کے لیے حاصل کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption ان کا کہنا ہے کہ یہ اپنے گاؤں جا کر دوسری لڑکیوں تربیت دیں گی

کیمپ میں ٹرینر رچا ورما نے بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کے اس کیمپ میں صرف بندوق چلانے کی ہی تربیت دی جا رہی ہے، یہاں لاٹھي چلانے، کراٹے، یوگا اور جسم کو چست درست رکھنے کا بھی طریقہ بتایا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption یہ لڑکیاں اپنی حفاظت خود کرنے کے لیے اور مسلح تربیت لے رہی ہیں

وی ایچ پی کے عہدیدار دیواکر کا کہنا ہے کہ ملک پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اس سے نمٹنے کے لیے ملک کا دفاع، معاشرے کا دفاع اور اپنی ذات کے دفاع کے لیے یہ ’شوریہ تربیتی کیمپ‘ لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تنظیم ہر سال صوبے کے مختلف حصوں میں خواتین کے لیے شوریہ تربیتی کیمپ لگاتی آئی ہے اور اس بار 10 سال بعد یہ موقع آیا ہے جب کاشی (بنارس) میں یہ کیمپ لگایا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption اس میں یوگا کی بھی تربیت دی جا رہی ہے

اسی بارے میں