انڈیا میں انتقال خون ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

انڈیا میں گذشتہ 17 ماہ میں ہسپتالوں میں انتقال خون کی وجہ سے کم از کم 2,234 افراد ایڈز کا باعث بننے والے ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے ہیں۔

یہ تفصیلات نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کے ایک بیان میں سامنے آئی ہیں جو انھوں نے عدالت میں ایک پٹیشن کے جواب میں جمع کرائی ہے۔

٭ ہوٹلوں سے جوڑوں کی گرفتاری پر غم و غصہ

عدالت میں درخواست ایک سماجی کارکن چیتن چوٹاری نے دائر کی تھی اور ایڈز سے متاثر ہونے والے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی استدعا کی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چوٹاری نے کہا کہ یہ چونکا دینے والی تفصیلات ہیں اور وہ حیران رہ گئے ہیں۔

انڈیا میں تقریباً 29 لاکھ افراد ایڈز کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔

معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت دائر کردہ درخواست کے رد عمل میں جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اتر پردیش میں خون کے انتقال سے ایڈز میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اتر پردیش میں 361 افراد انتقال خون کے بعد اس مرض کا شکار ہوئے۔ اتر پردیش کے علاوہ گجرات میں ایسے افراد کی تعداد 292 تھی جبکہ مہاراشٹر کے 276 افراد بدقسمتی سے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں جسم فروشی بھی ایڈز کے پھیلنے کا ایک سبب ہے

دارالحکومت دہلی میں بھی ایسے 264 مریض سامنے آئے ہیں جن کو انتقال خون سے ایچ آئی وی منتقل ہوا۔

چوٹاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسے لوگوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔

انڈیا میں قانون کے تحت ہپستالوں اور طبی مراکز کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ خون لینے سے پہلے خون عطیہ کرنے والوں کا معائنہ کریں کہ کہیں انھیں ایچ آئی وی، یرقان اور ملیریا تو نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح عطیہ کیے جانے والے خون کا بھی ٹیسٹ کیا جانا قانوناً لازمی ہے۔

اس طرح کے ہر ٹیسٹ پر 12 سو روپے خرچ آتا ہے اور بھارت میں تمام ہسپتالوں میں یہ ٹیسٹ کرانے کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔

چوٹاری کے بقول بڑے بڑے ہسپتالوں میں بھی ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرانے کی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بڑی تشویشناک صورت حال ہے اور اس کا فوری طور پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں