پٹھان کوٹ حملہ: ’پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر کا یہ کہنا کہ پٹھان کوٹ حملے میں حکومتِ پاکستان یا کسی پاکستانی ایجنسی کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے پاکستانی موقف کی تصدیق ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے یہ بیان انڈیا کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار کے اس انٹرویو کے رد عمل میں بیان دیا جس میں انھوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ حملے میں پاکستان کی حکومت یا ایجنسی کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

’واقعے پر فوری ایکشن پاکستان کے تعاون کا عکاس ہے۔ اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم انڈیا کے دورے پر ملنے والی معلومات کا جائزہ لے رہی ہے۔‘

این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے یہ بات انڈین ویب سائٹ نیوز 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

نیوز 18 کے مطابق شرد کمار نے کہا ’ایسے شواہد موجود نہیں جن سے ثابت ہو کہ پاکستانی حکومت یا ایجنسی نے جیش محمد یا مسعود اظہر یا ان کے ساتھیوں کی پٹھان کوٹ حملے میں مدد کی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان کا مزید کہنا تھا کہ این آئی اے نے انڈیا میں تحقیقات کو مکمل کرلیا ہے اور اب ٹیم پاکستان کے دورے کے لیے حکومتِ پاکستان کی اجازت کی منتظر ہے تاکہ تفتیش مکمل ہوسکے۔

’ہمیں امید ہے کہ پاکستان ہمیں اپنی سرزمین پر تفتیش کی اجازت دے دے گی۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر این آئی اے کی ٹیم کو پاکستان آنے کی اجازت نہ بھی ملی تو بھی اس کیس کی چارج شیٹ دائر کر دی جائے گی۔

’ہمارے پاس مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی رؤف اظہر کے حوالے سے کافی اور ٹھوس شواہد ہیں اور ہم انھیں چارج شیٹ کا حصہ بنائیں گے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ پٹھانکوٹ حملے میں اب تک کی تفتیش میں کسی اندرونی ہاتھ کی مدد کا عندیہ نہیں ملا۔

اسی بارے میں